برطانیہ اور یورپ میں بھی صورتحال تشویشناک

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 3 ہزار 57 اور مریضوں کی تقریبا 90 ہزار ہوچکی ہے۔ وائرس 67 ریاستوں میں پھیل چکا ہے اور امریکا میں 2ہلاکتوں کے بعد مزید اموات کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

امریکا میں کورونا سے پہلی ہلاکت ریاست واشنگٹن کے شہر سی ایٹل میں ہوئی تھی جہاں 50برس کا شخص انتقال کرگیا تھا۔

ریاست واشنگٹن ہی کے نرسنگ مرکز میں دوسری ہلاکت ہوئی ہے۔ ہلاک شخص کی عمر 70 برس سے زیادہ تھی ، اسی مرکز میں اسٹاف اور وہاں مقیم 50افراد کے کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آئے ہیں۔

نیویارک ، کیلی فورنیا اور الی نوائے میں بھی کورونا کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ پورے ملک میں مریضوں کی تعداد 87 ہوچکی ہے۔ امریکا کے نائب صدر مائیک پنس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جدید ترین میڈیکل ٹیکنالوجی کے حامل ملک میں کورونا وائرس سے مزید اموات ہوسکتی ہیں۔

نائب صدر کے برعکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر لوگوں سے کہا ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں۔

امریکا میں ماسک خریدنے کا رجحان بڑھ گیا ہے اور معروف کمپنیز نے بھی جدید ماسک متعارف کرانا شروع کردیئے ہیں ، امریکا کے سرجن جنرل نے لوگوں پر واضح  کیا ہے کہ بیماری سے بچنے کیلئے عام آدمیوں کو ماسک لگانا ضروری نہیں ہے۔

امریکا نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اٹلی اور جنوبی کوریا کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں کیونکہ وہاں اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

برطانیہ میں مریضوں کی تعداد 36 ہوچکی ہے اور حکومت نے کہا ہے کہ اگر صورتحال کنٹرول نہ ہوئی تو بڑے ایونٹس کے انعقاد پر پابندی لگانی پڑے گی جبکہ اسکول بند کرنے ہوں گے، فرانس اور جرمنی میں 130 ، 130 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔  اٹلی میں صورتحال زیادہ خراب ہے جہاں 41 افراد ہلاک اور 1701 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

آسٹریلیا میں ایک مریض کی ہلاکت ہوئی جبکہ ایک آسٹریلوی شہری جاپان میں لنگر انداز ڈائمنڈ پرنس جہاز میں بھی ہلاک ہوچکا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو