اتحادی افواج پر حملے نہیں کریں گے، طالبان

افغان صدر اشرف غنی کے ایک بیان نے افغانستان میں امن مشکل بنادیا ہے، طالبان نے افغان فورسز پر حملوں کا اعلان کردیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق افغان طالبان نے جنگ بندی جزوی ختم کرنے کا اعلان کردیا، طالبان کا کہنا ہے کہ معاہدے پر عمل کرتے ہوئے غیر ملکی افواج پر حملے نہیں کئے جائیں گے، البتہ افغان فورسز کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی۔

طالبان نے 5 ہزار قیدیوں کی رہائی تک بین الاافغان مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے غیرملکی خبرایجنسی کو بتایا کہ انھیں اسیروں کی رہائی کا انتظار ہے۔

اس سے پہلے افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ حکومت نے 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا وعدہ نہیں کیا اور اسیروں کو رہا کرنا امریکا کے اختیار میں نہیں ہے۔ کابل میں پریس کانفرنس کے دوران اشرف غنی نے واضح کیا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات قیدیوں کی رہائی سے مشروط نہیں البتہ یہ معاملہ مذاکرات کا حصہ ہونا چاہئے۔

یاد رہے کہ امریکا اور طالبان نے 29 فروری کو تاریخی امن معاہدے پر دستخط کئے تھے ، معاہدے کے تحت امریکا اور نیٹو افواج 14 ماہ میں افغانستان سے انخلا کی پابندی ہیں ، امریکا پہلے 135 دنوں میں فوجیوں کی تعداد کم کرکے 8 ہزار 600 کردے گا جبکہ دیگر اتحادی ممالک بھی فوجیوں کی تعداد کم کریں گے۔ معاہدے میں اتفاق کیا گیا تھا کہ 10 مارچ تک 5 ہزار طالبان قیدیوں اور ایک ہزار افغان سیکیورٹی اہلکاروں کا تبادلہ ہوگا، اس کے ساتھ ہی افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔

ٹرینڈنگ

مینو