شہر شہر ریلیاں، صنفی امتیاز ختم کرنے کا مطالبہ

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عالمی یوم خواتین منایا گیا، شہر شہر ریلیاں نکالی گئیں ، سیمینار اور کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا جہاں مقررین نے خواتین کو مساوی حقوق دینے کا مطالبہ کیا۔ اسلام آباد میں عورت مارچ کے شرکا پر پتھراو کیا گیا لیکن مارچ متاثر کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔ 

اسلام آباد میں عورت مارچ کے شرکا پر پریس کلب کے قریب پتھراو کیا گیا لیکن کوئی زخمی نہیں ہوا، اس دوران دونوں جانب سے نعرے بازی کی جاتی رہی، پولیس نے عورت مارچ کو متاثر کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔

کراچی کے فریئر ہال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین  نے کہا کہ خواتین کو مساوی حقوق دیئے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔

اس دوران خواتین رہنماوں ، صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے خطاب کیا، انھوں نے کہا کہ یہ جدید دور ہے اور اب عورت کے حقوق کوئی نہیں چھین سکتا۔

کراچی: عالمی یوم خواتین ، آزادی آزادی کے نعرے

کراچی: عالمی یوم خواتین ، آزادی آزادی کے نعرے

Posted by Zabar News on Sunday, March 8, 2020

اس موقع پر زبر نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معروف سماجی کارکن اور کلاسیک ڈانس کی ماہر شیما کرمانی نے کہا کہ خواتین سماج میں تبدیلی لانے کیلئے تیار ہیں۔

لاہور میں ریلی نکالی گئی جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

خواتین نے صنفی امتیاز ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ گھریلو تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے جبکہ عورت کو وراثت میں بھی حق ملنا چاہئے۔

یاد رہے کہ 1908 میں نیویارک کی گارمنٹس فیکٹری کی خواتین ملازمین نے ہڑتال کرکے اپنے حقوق منوائے تھے ، اس کے بعد امریکا کی سوشلسٹ پارٹی نے 28 فروری 1909 کو یوم خواتین منایا تھا، اقوام متحدہ نے 1975 میں 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین سے منسوب کردیا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو