اسپتال نہیں مردہ خانے، نرس روپڑی، ویڈیو

نرسوں کا کام مریضوں کی دیکھ بھال اور ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرکے انہیں صحت یاب ہونے میں مدد دینا ہوتا ہے مگر نیویارک پر وہ آفت ٹوٹی ہے کہ ایک نرس اپنی بپتا بتاتے ہوئے اس قدر آبدیدہ ہوئی کہ اپنا نام بناتا بھی مشکل ہوگیا۔

خاتون نرس لڑکپن میں باڈی بلڈنگ کیا کرتی تھی۔ ذہنی اور جسمانی طور پر خود کو توانا سمجھتی تھی۔ جب نرسنگ کا پیشہ اپنایا تو کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ دنیا کو کورونا جیسی آفت کا سامنا ہوگا اور ترقی یافتہ ترین شہروں میں سے ایک نیویارک کے اسپتال میں کام روح کیلئے عذاب بن جائے گا۔

خاتون نے بتایا کہ اس آفت کیلئے تو طبی عملے کی کبھی تربیت ہی نہیں کی گئی تھی۔ وہ اپنے وارڈ میں جاکر مریضوں کا خیال رکھتی تھی مگر اب جس کمرے میں جاتی ہے وہاں کسی نہ کسی کی لاش ملتی ہے۔ دیگر نرسوں کی طرح وہ بھی انتھک کوشش کرتی ہے کہ کسی طرح مریضوں کو بچالیا جائے مگر یہ ایسی بیماری ہے کہ سارے جتن کرکے بھی نرسیں ناکام رہتی ہیں۔

نرس کا کہنا تھا کہ اب اس کا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ مریضوں کے لواحقین کو فون کرے اور اس درد ناک خبر سے آگاہ کرے کہ آپ کا عزیز زندگی کی بازی ہار چکا ہے۔

خاتون نے بتایا کہ مریض زیادہ اور طبی عملہ کم ہے اور وہ خود کو بے بس محسوس کرتی ہے۔ اپنا دکھ کسی سے بانٹ بھی نہیں سکتی کیونکہ یہ دکھ اس کی تمام ساتھی نرسوں کا بھی ہے۔ خاتون نے بتایا کہ جب وہ ٹیکسی سے گھر آرہی تھی تو اس قدر آبدیدہ تھی کہ ڈرائیور بار بار پوچھتا رہا کہ آپ ٹھیک تو ہیں۔

نرس نے کہا کہ وہ بھی انسان ہے۔ دل رکھتی ہے اور صورتحال برداشت سے باہر ہوچکی ہے۔ ذہنی تناو ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔ کمرے یا باتھ روم میں آکر خود کلامی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ یہ وہ دکھ ہے جو آپ کسی سے بیان نہیں کرسکتے۔ یہ وہ وقت ہے کہ ایک دوسرے کو دلاسا دیا جائے اور اس مرض کے بارے میں آگاہی پھیلائی جائے تاکہ کم سے کم لوگ اس کا شکار ہوں۔

ٹرینڈنگ

مینو