کورونا مریض یحییٰ کے دوست اور اساتذہ فکرمند

پاکستان میں کورونا کے ایک مریض کا تعلق جامعہ کراچی کے کلیہ فنون سے نکلا۔ یحیی جعفری ایم اے سال اول کا طالب علم ہے جو ایوننگ پروگرام سے منسلک ہے۔ اسپرے کے بغیر پیر کو یونیورسٹی کھولنے کا اعلان کیا گیا جس سے طلبا اور عملہ تشویش میں مبتلا ہے۔

زبرنیوز کو انتہائی مصدقہ ذرائع نے بتایا کہ یحیی جعفری زیارات کیلئے ایران گیا تھا۔ حاضری رجسٹر سے ثابت ہوتا ہے کہ یحیی منگل کو اپنے شعبے میں کلاسیں  لینے آیا ، اس کی طبعیت خراب تھی اور بدھ کو ایک نجی اسپتال میں اس کا کورونا ٹیسٹ کرایا گیا جو مثبت نکلا۔ یحیی کی کلاس میں 25 سے زائد طالبعلم ہیں جن کے ٹیسٹ خوش قسمتی سے منفی آئے ہیں۔ زبرنیوز کو معلوم ہوا ہے کہ یونیورسٹی کے متعلقہ شعبے میں ابتک اسپرے نہیں کرایا گیا۔

جامعہ کراچی کے عملے نے وائس چانسلر کو مشورہ دیا تھا کہ پوری یونیورسٹی میں اسپرے کرایا جائے تاکہ نہ صرف طلبہ و طالبات بلکہ اساتذہ اور عملہ بھی محفوظ رہ سکے۔ وائس چانسلر نے اس مشورے پر اب تک عمل نہیں کیا ہے۔نئی صورت حال میں یونیورسٹی ملازمین اور طلبا سوال کررہے ہیں کہ کیا اسپرے کے بغیر یونیورسٹی کھولنا مناسب ہوگا ؟

طلبا اور یونیورسٹی ملازمین کا کہنا ہے کہ سندھ اور وفاقی حکومت نے بروقت اقدامات کے ذریعے کورونا پر انتہائی موثر انداز سے قابو پایا مگر جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے اگر لاپروائی برتی تو خدشہ ہے کہ بیماری پر قابو پانے سے متعلق حکومتی کوششوں پر پانی نہ پھر جائے۔

زبرنیوز نے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی سے رابطہ کرنے کی کئی بار کوشش کی لیکن ان کا فون بند ملا، تاہم یونیورسٹی کے رجسٹرار سلیم شہزاد نے زبر نیوز کو بتایا کہ کیس ایک ہفتہ پرانا ہے ، کھلے ماحول میں وائرس کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا اس لئے اسپرے کی ضرورت ہی نہیں۔ یونیورسٹی پیر کو کھلے گی اور طلبا پریشان نہ ہوں۔

زبر نیوز سے بات کرتے ہوئے آغا خان اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ کورونا سے صرف 2 فیصد اموات ہوتی ہیں۔ ان میں سے بھی ایسے افراد کی زندگی کو خدشات ہوتے ہیں جو ضعیف ہوں ،  قوت مدافعت کمزور ہو، سگریٹ پیتے ہوں یا دمے کے مریض ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ بہتر یہ ہے کہ لوگ اپنے ہاتھ صاف رکھیں ، گھر سے باہر ہوں تو منہ ، ناک اور آنکھوں کو ہاتھ نہ لگائیں، لوگوں کو ماسک لگانے کی بھی ضرورت نہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو