دنیا کو بدترین صورتحال کا سامنا ہوگا، برطانوی پروفیسر

کورونا وائرس کے باعث اٹلی بند ہوا اور اب امریکا بھی 2 ہفتے کے اندر بند ہوجائے گا، یہ دعویٰ یونیورسٹی کالج لندن میں شعبہ کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر مارک ہنڈلے نے کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ 14 روز میں ہر ملک کو اٹلی جیسی صورتحال کا سامنا ہوگا۔

کورونا اندازوں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے اور مختلف ممالک میں وبائی شکل اختیار کرچکا ہے، اٹلی بند ہوا تو دنیا حیران رہ گئی اور اب دیگر ممالک میں بھی ایسے ہی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ پروفیسر مارک ہنڈلے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا 2 ہفتے میں بند ہوجائے گا۔

اس پوسٹ کے مطابق جرمنی اور فرانس کو 9 دن کے اندر اٹلی جیسی صورتحال کا سامنا ہوگا، اسپین میں 10 ، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ میں 13 دن بعد اٹلی جیسے حالات ہوں گے۔

اٹلی میں لاک ڈاؤن کے بعد یہ صورتحال ہے۔ سڑکیں سنسنان پڑی ہیں اور لوگ گھروں سے باہر نکلتے ہوئے گھبرا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اٹلی میں یکم مارچ تک کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا اور 10 مارچ کو لاک ڈاون کی نوبت آگئی تھی۔

امریکی انتظامیہ اس بات کا تو اعتراف کرتی ہے کہ صورتحال انتہائی خراب ہوسکتی ہے لیکن لاک ڈاون کا دعویٰ کوئی قبول کو کرنے تیار نہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

امریکی حکام کے دعوے اپنی جگہ لیکن ایسی کمپنیز کی تعداد بڑھ رہی ہے جو اپنے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کر رہی ہیں جبکہ اسکول بند کئے جارہے ہیں۔

نیویارک کے میئر کا اصرار ہے کہ شہر بند نہیں کیا جائے گا البتہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان سے ایک ہفتے بعد صورتحال معلوم کی جائے۔

جیکبس اسکول آف میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر جون کرین بھی مارک ہینڈلے کی بات سے متفق ہیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ دنیا نے ایسی وبا پہلے کبھی نہیں دیکھی اور وہ ان تمام ممالک سے سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں صورتحال زیادہ خراب ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو