امریکا باتیں نہ بنائے ، ثبوت لائے

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی ابتدا سے متعلق سیاسی نہیں سائنسی تحقیق ہونی چاہئے۔ 

ہیلتھ ایمرجنسیز سے متعلق ڈبلیو ایچ او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیکل رائن کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت نے ادارے کو اب تک شواہد یا ایسا ڈیٹا نہیں دیا جس سے ثابت ہو کہ کورونا قدرتی طور پر وجود میں نہیں آیا، اس لئے اب تک تمام باتیں قیاس آرائیاں ہی ہیں۔

مائیکل رائن کا کہنا تھا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ٹھوس شواہد کی منتظر ہے۔ عالمی ادارہ صحت صرف شواہد کی بنیاد پر بات کرتا ہے۔ کورونا وائرس کی جو سیکوئنسنگ کی گئی اور جو ادارے کو مشورے دیئے گئے ان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ کورونا وائرس قدرتی طور پر موجود تھا ، ہم اس کے قدرتی آغاز اور انسان میں منتقل ہونے سے پہلے اس کے درمیانی میزبان سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں سیاسی نہیں سائنسی بنیاد پر تحقیقات کی جانی چاہیں۔

امریکا کے صدر ٹرمپ اور وزیرخارجہ مائیک پامپیو نے دعویٰ کیا تھا کہ کورونا وائرس چین کی لیبارٹری میں تیار ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ چین کے سرکاری میڈیا نے ان بیانات کو فریب قرار دیا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو