عرفان کا فن، مقبولیت کا گُر،ویڈیو

قرۃ العین

پاکستانی امریکن آرٹسٹ عرفان مرتضی کے فن پاروں کی کیلی فورنیا میں نمائش ہوئی۔ عرفان مرتضی ریاست کی انتہائی نامور گیلری میں ایک تصویر کھینچنے گئے تھے۔ فنکار نے زبر نیوز کو بتایا کہ آخر  ایسا کیا ہوا کہ آرٹ گیلری کے منتظمین نے انہیں دعوت دے ڈالی کہ صرف تصویر نہ کھینچیں ، اپنے تمام تخلیقی نمونوں کی یہاں نمائش کریں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے عرفان مرتضی نے جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر میں پسماندہ طبقات کو بہت عمدہ انداز سے پینٹ کیا ہے اور دیکھنے والا پینٹ کئے گئے افراد کا درد محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

پاکستانی امریکن مصور کو مذہب سے بھی گہرا لگاو ہے ، انھوں نے بادشاہی مسجد لاہور اور شاہ جہانی مسجد کی بھی بہت مہارت سے منظر کشی کی ہے۔ تعمیراتی باریکیاں اس محنت سے اجاگر کی ہیں کہ دیکھنے والا سراہے بغیر نہیں رہ سکتا۔

تاریخ، عرفان مرتضی کی دلچسپی کا خاص پہلو ہے ۔ قلعہ روہتاس ہو یا شاہی قلعہ، انھوں نے تاریخی اہمیت کی حامل عمارتوں کو کینوس پر اس انداز میں اتارا ہے کہ ناظر ہزاروں میل کا سفر طے کرکے ان مقامات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے۔

ٹیکسلا کی وجہ سے پاکستان بدھ مت کے پیروکاروں کیلئے خصوصی حیثیت رکھتا ہے اور بدھا کی تعلیمات کے ایشیا پر گہرے اثرات بھی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ عرفان مرتضی نے اس عظیم شخصیت کا روحانی پہلو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

عرفان مرتضی نے بدھ مت کے ان مٹ نقوش تو واضح کئے ہی ہیں ، مصر کی تہذیب بھی ان کے فن پاروں میں شامل ہے۔ مصر پر راج کرنے والی غیر معمولی شخصیت کی پینٹنگ اسی لیے نمائش کا حصہ تھی۔

آئیں اب عرفان مرتضی کی زبانی جانتے ہیں کہ انھیں کیلی فورنیا کی آرٹ گیلری میں اپنے فن پاروں کی نمائش کا موقع کیسے ملا اور وہ خود اپنی تخلیقات کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

عرفان مرتضی میں کئی خوبیاں سمٹ آئی ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور کراٹے میں بلیک بیلٹ بھی ، ان کے فن پارے دیکھنے والے یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ پینٹنگ کا آغاز انھوں نے چند برس پہلے ہی کیا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو