امریکا: مسلح افراد کا احتجاج زور پکڑ گیا

امریکا میں کورونا سے لگ بھگ 66 ہزار اموات ہوچکی ہیں لیکن اس کے باوجود لاک ڈاؤن کی مخالفت بڑھتی جارہی ہے۔ مسلح افراد ایک بار پھر شہروں میں دندناتے پھرے ہیں۔

امریکا میں کورونا کے تقریبا 1700 نئے مریض انتقال کرگئے ، ایک ہی دن میں 30 ہزار کیس رپورٹ ہوئے اور متاثرین کی تعداد 11 لاکھ 25 ہزار ہوچکی ہے۔ لاشوں سے ٹرک اب بھی بھرے جارہے ہیں۔ اگرچہ نیویارک میں اموات کم ہوئیں لیکن اب دیگر ریاستوں میں بڑھ رہی ہیں۔ اس کے باوجود لاک ڈاؤن کی مخالفت میں اضافہ ہوگیا ہے۔

ریاستوں کی بندش کی مخالفت کرنے والوں کے احتجاج کا دائرہ کار بڑھتا جارہا ہے، لاس اینجلس ، نیویارک اور شکاگو سمیت مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئی ہیں۔ چہرے ڈھانپے مسلح افراد نے ریاست کو اپنی طاقت دکھا دی ہے۔

خود کار ہتھیاروں سے لیس افراد نے اہم شاہراہوں پر گشت کیا ہے اور سماجی فاصلے کی ہدایات نظر انداز کردی گئی ہیں۔

مظاہرین اس طرح احتجاج پر نکلے ہیں جیسے جنگ کرنے جارہے ہوں، مختلف شہروں میں پولیس بھی بے بس نظر آئی۔

امریکی جھنڈے اٹھائے افراد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں نعرے لگاتے رہے اور انھوں نے گھروں میں رہنے کا حکم واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

لاک ڈاؤن مخالفین نے نارتھ کیرولائنا ، پنسلونیا اور کیلی فورنیا سمیت ملک بھر میں ریلیاں نکالیں۔ مظاہرین آزادی کے حق میں گانے گاتے اور نعرے لگاتے رہے۔

لوگوں نے کاروبار کی بندش کو کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک قرار دیا، انھوں نے مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی اپنائی جائے اور لاک ڈاؤن ختم کردیا جائے۔

مشی گن میں جمعہ کو بندوق بردار مخالفین نے سینیٹ گیلری پر دھاوا بولا تھا اور اس ریلی کا اہتمام مشی گن یونائیٹڈ فار لیبرٹی نے کیا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو