ایسے ایسے کیسے کیسے ہوگئے؟

آرام دہ فضائی سفر کیلئے دنیا بھر میں مشہور ورجن اٹلانٹک کی سپر اسمارٹ ایئرہوسٹس کو کورونا بحران نے ایسی جگہ لا کر کھڑا کردیا جہاں اگر وہ کسی کو بتائے کہ اس کا ماضی کتنا سہانا تھا تو شاید کوئی یقینی بھی نہ کرے۔

36 برس کی سارہ حیدر کا تعلق انگلینڈ کے علاقے برائٹن سے ہے۔ کورونا وبا پھیلنے سے پہلے اس نے ایئرہوسٹس کی حیثیت سے آخری فلائٹ 23 مارچ کو کی تھی۔

سارہ جس ورجن اٹلانٹک کیلئے کام کرتی تھی اس کے مالک سر رچرڈ برینسن ہیں ، ان کے اثاثوں کی مالیت 4 ارب پاونڈ ہے تاہم انہوں نے اپنی انڈسٹری کے 8 ہزار ملازمین کو بغیر تنخواہ چھٹیوں پر بھیج دیا جن میں سارہ بھی شامل ہے۔

سپر فٹ سارہ حیدر پرسنل ٹرینر کے طور پر بھی کام کرتی رہی ہے مگر کورونا بحران نے لوگوں کو ایسی سماجی دوری پر مجبور کیا کہ سارہ کیلئے عام ملازمت تلاش کرنے کے سوا چارہ نہ تھا۔

سارہ نے اب ویسٹ سسکس کے علاقے میں واقع ایسڈا اسٹور میں سامان بھرنے کی نوکری کرلی ہے۔ سارہ کا کہنا ہے کہ جب تک معمولات زندگی بحال نہیں ہوتے ، اسے پرفیکٹ کام مل گیا ہے۔

ایسڈا کے منیجر کا کہنا ہے کہ سارہ نے ایئر لائن ٹرالیز سے ایسڈا ٹرالیز چلانے کا سفر انتہائی تیزی سے مکمل کیا اور وہ پوری دلچسپی سے کام کرتی ہے۔ سارہ نے ایسڈا یونیفارم میں بھی اپنی تصویر فخر کےساتھ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہے۔

سارہ جیسے محنتی ملازمین کو جبری چھٹیوں پر بھیجنے والے سر رچرڈ برینسن سے سر کا خطاب واپس لینے کی مہم تیز ہوگئی ہے۔ اس مہم پر 30 ہزار افراد دستخط کرچکے ہیں۔ برینسن نے اپنی ایئر لائن کو بچانے کیلئے حکومت سے 5 سو ملین پاونڈ کا بیل آوٹ پیکج مانگا ہے۔

سارہ کو توقع ہے کہ ایک روز لاک ڈاون ختم ہوگا ، سماجی فاصلے دور ہوں گے ، وہ پھر سے ملکوں ملکوں کی سیر کرے گی اور دنیا بھر میں اڑتی پھرے گی۔

ٹرینڈنگ

مینو