ایک سے بڑھ کر ایک حسینہ اور قرنطینہ

تھائی لینڈ  کے رنگیلے بادشاہ نے اپنی تاج پوشی کی سالگرہ کا دن بھی وطن میں گزارنا مناسب نہ سمجھا، کنگ ماہا ملک کو قرنطینہ میں چھوڑ کر 20 حسیناؤں کے ساتھ پھر پہاڑوں کے دامن میں پہنچ گئے۔ 

67 برس کے بادشاہ ماہا نے جرمنی کے فواسٹار ہوٹل کا چوتھا فلور بک کرایا ہوا ہے جہاں وہ 20 حسیناؤں کی فوج ظفر موج کے ساتھ قرنطینہ میں ہیں۔

آسٹریا کی سرحد کے کنارے واقع اس ہوٹل نے دیگر کسٹمرز کیلئے بکنگ بند کررکھی ہے ، حد یہ ہے کہ ہوٹل کے عملے کو بھی چوتھے فلور کی جانب سر اٹھا کر دیکھنے کی اجازت نہیں۔

بادشاہ کے ساتھ جو 20 دوشیزائیں یہاں لائی گئی ہیں ان میں سے کسی کو میجر اور کسی کو کرنل کا عہدہ ملا ہوا ہے اور سب بادشاہ کی جاں نثاروں میں سے ہیں۔

بادشاہ ماہا نے 2016 میں اپنے والد کے انتقال کے بعد تخت سنبھالا تھا مگر ان کی باقاعدہ تاجپوشی مئی 2019 میں ہوئی تھی۔ اس بار کورونا کی وجہ سے تقریبات منعقد نہیں کی جارہیں اور بادشاہ کے جرمنی میں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے یہ دن اپنے وطن میں گزارنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔

بادشاہ ماہا کورونا وبا پھیلنے کے ساتھ ہی جرمنی کے اس ہوٹل میں قرنطینہ ہوگئے تھے ، وہ اس عرصے میں کم سے کم ایک بار واپس بنکاک گئے تھے اور یہ تصویر اسی دورے کے دوران لی گئی تھی۔ اس میں بادشاہ کو حفاظتی سامان کا جائزہ لیتے دیکھا جاسکتا ہے۔

بادشاہ ماہا نے تخت نشینی سے چند روز پہلے شادی کی تھی اور خاتون کو ملکہ سوتھیدا کے لقب سے نوازا تھا۔ سوتھیدا تھائی ایئرویز کی ایئرہوسٹس رہ چکی ہیں۔ شادی کا تحفہ قبول کرنے کیلئے ملکہ کو ایک خاص انداز میں فرش پر لیٹنا پڑا تھا۔

تھائی روایات کے مطابق بادشاہ کو دیوتا جیسی شخصیت تصور کیا جاتا ہے ، ان کے سامنے ہر شخص کو عاجزی دکھانی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بادشاہ دیگر لوگوں کے مقابلے میں اونچی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو