بائیڈن نے برنی کے قدم روک دیئے، سپر ٹیوزڈے سنسنی خیز

امریکا میں صدارتی امیدوار بننے کے ڈیموکریٹ خواہش مندوں کی دوڑ پہلے سے زیادہ دلچسپ ہوگئی۔ سابق نائب صدر جوبائیڈن نے جنوبی کیرولائنا کا پارٹی انتخاب بھاری اکثریت سے جیت لیا۔ صدارتی الیکشن کی مہم میں انہوں نے یہ پہلا معرکا سر کیا ہے۔

پچھلے 3 اہم مقابلوں میں بائیڈن کی پوزیشن انتہائی خراب تھی جس کے سبب سابق نائب صدر کے حامی دلبرداشتہ ہو کر انہیں چھوڑنے پر غور کررہے تھے اور خود ڈیموکریٹس میں بعض حلقوں کا خیال تھا کہ کہیں بائیڈن کو دستبردار ہی نہ ہونا پڑجائے۔ اب سپرٹیوزڈے سے پہلے اہم مقابلے میں بائیڈن نے ڈھائی لاکھ سے زائد ووٹ لیے ہیں جس سے مردہ گھوڑے میں جان پڑگئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے پہلے ہی پیشگوئی کردی تھی کہ جوبائیڈن یہ مقابلہ جیت لیں گے اور یہ بھی کہ بائیڈن کی جیت ارب پتی مائیکل بلوم برگ کیلئے دھچکا ثابت ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے نزدیک بائیڈن اور بلوم برگ ایک دوسرے کے ووٹ کاٹیں گے جس سے بلآخر بلوم برگ کا پتا صاف ہوجائے گا۔

جنوبی کیرولائنا میں برنی سینڈرز دوسرے نمبر پر آئے ہیں۔ انہیں ایک لاکھ سے کچھ زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ جو اس بات کی نشانی ہے کہ صدارتی امیدوار کو چننے کے معاملے پر ڈیموکریٹس انتہائی منقسم ہیں۔ تاہم برنی سینڈرز اب بھی سرفہرست امیدوار ہیں اور سپرٹیوزڈے میں ان کی پوزیشن دیگر تمام امیدوار بننے کے خواہش مندوں کے مقابلے میں بہتر ہے۔

پیعٹ بڈاجج کی بڑھتی مقبولیت کا گراف زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکا۔ آئیوا کاکس جیت کر لوگوں کو حیران کرنے والے بڈاجج کا جنوبی کیرولائنا میں چوتھا نمبر ہے۔ انہیں 42 ہزار کے قریب ووٹ ملے ہیں۔

ایک اور ارب پتی ٹام اسٹائر تیسرے نمبر پر آئے ہیں مگر پہلے 3 مقابلوں میں ان کی پوزیشن اس قدر خراب رہی تھی کہ جنوبی کیرولائنا میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے کے باوجود اسٹائر دوڑ سے دست بردار ہوگئے ہیں۔

الزبتھ وارن اور ایمی کلوبوچار کی پرفارمنس اس ریاست میں بھی بہتر نہیں رہی اور زبرنیوز ذرائع کا کہنا ہے کہ سپرٹیوز ڈے کے بعد یہ دونوں بھی اسٹائر کی طرح دست بردار ہوجائیں گی۔

ٹرینڈنگ

مینو