بتی اور آگ والے بابا ڈونلڈ ٹرمپ ، ویڈیوز

کورونا نے امریکی صدر کو ہواس باختہ کردیا، سائنسی طریقوں سے ناواقف ڈونلڈ ٹرمپ وبا سے لڑنے  کیلئے بتی اور آگ والے بابا بن گئے ہیں۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سائنسی طریقوں سے متصادم باتیں کرنے لگے، محکمہ داخلہ کے اہلکار ولیم برائن  نے دعویٰ کیا تھا کہ سائنسدانوں نے تجربہ کرکے ثابت کیا ہے کہ سورج کی روشنی اور الٹراوئلٹ شعاعوں کی مدد سے وائرس ختم کیا جاسکتا ہے، ٹرمپ نے کورونا وبا کا جھٹ حل بتا دیا اور کہا کہ نہ صرف یہ تجربہ کیا جاسکتا بلکہ جراثیم کش محلول مریضوں کو دے کر بھی بیماری ختم کی جاسکتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جب کورونا مریضوں کیلئے غیر معقول علاج تجویز کر رہے تھے تو ان کے دائیں جانب بیٹھی کورونا وائرس ٹاسک فورس کی کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر ڈیبرا کے چہرے پر کیا تاثرات تھے آئیں دیکھتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر معقول تجویز پر امریکا کے ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار اور سابق نائب صدر جوبائیڈن بھی ہکا بکا رہ گئے ہیں۔

جو بائیڈن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مسئلے کا حل الٹراوائلٹ شعائیں یا جراثیم کش انجکشن دینا نہیں ، زیادہ سے زیادہ افراد کے کورونا ٹیسٹ کئے جانے چاہئیں اور طبی عملے کو آلات دیئے جائیں۔

صدر ٹرمپ کی تجویز سن کر طبی ماہرین بھی حیران رہ گئے ہیں ، مغربی ورجینیا کے نامور فزیشن ڈاکٹر کاشف محمود کہتے ہیں کہ لوگ ٹرمپ کی باتوں پر نہ جائیں۔

ابھی پریس کانفرنس ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کا مذاق اڑایا جانے لگا، فرانس کے سائنس داں پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ کورونا وائرس کو اگر 60 ڈگری سینٹی گریڈ پر ایک گھنٹے تک تپش دی جائے تو اس پر زرا برابر اثر نہیں ہوتا ، تپش ختم ہونے کے ساتھ ہی وہ دوبارہ ایک سے دو اور دو سے چار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ کورونا کو ختم کرنا ہو تو 92 ڈگری سینٹی گریڈ پر 15 منٹ تک تپش دینی پڑتی ہے۔

انسانی جسم کا درجہ حرارت صرف 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ درجہ حرارت بڑھ جائے تو انسان بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ بخار 106 فارن ہائیٹ ہوجائے تو اس کا مطلب 41 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے ۔ بخار اس سے اوپر چلا جائے تو عام طور پرانسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

موسم گرما میں دنیا کو کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں  درجہ حرارت 92 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہو ، اگر ایسا ممکن بھی ہوتا تو انسان کا وہاں زندہ رہنا ناممکن ہوجاتا۔ صدر ٹرمپ نے سائنسی امور پر اپنی لاعلمی تسلیم کرنے کے بجائے جو بات کہی اس پر اب سوشل میڈیا صارفین تفریح لے رہے ہیں۔

وائرس سے بچاو کیلئے کوئی اینٹی بائیوٹک قابل عمل نہیں ہوتی کیونکہ اینٹی بائیوٹک بیکٹریا جیسے جراثیموں کو مارنے کیلئے دی جاتی ہے۔ وائرس کو ویکسین کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے جیسا کہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کیلئے ویکسین کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔ اسی طرح کورونا سے بچاو کی ویکسین تیار کرلی گئی تو لوگوں کو پہلے ہی دیدی جائے گی تاکہ وائرس حملہ کرے تو جسم میں موجود ویکسین کورونا کو ختم کردے۔

ٹرینڈنگ

مینو