برٹش پاکستانیوں کی اتنی زیادہ اموات کیوں ؟

برطانیہ میں کورونا وبا سے ایشیائی اور سیاہ فام افراد کے مرنے کی شرح سفید فام افراد سے بہت زیادہ نوٹ کی گئی ہے۔ یہ پہلی رپورٹ ہے جس میں  عمر، علاقے اور جنس کی بنیاد پر اموات کی شرح واضح کی گئی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف فیسکل اسٹڈیز کے مطابق کورونا وبا سے سیاہ فام افراد کی اموات کی شرح سفید فام لوگوں کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہے جبکہ سیاہ فام کریبئین افراد میں یہ شرح ایک اعشاریہ 8 فیصد زیادہ ہے۔

برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق سفید فام افراد کے مقابلے میں برٹش پاکستانیوں میں اموات کی شرح  2 اعشاریہ 7 فیصد زیادہ ہے۔ این ایچ ایس کے ڈائریکٹر  ڈاکٹر حبیب نقوی کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اموات کا ہونا پریشان کن ہے۔

برطانیہ کے پسماندہ علاقوں میں آباد ہر ایک لاکھ افراد میں سے 55 کورونا وبا سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ امیر علاقوں میں یہ تعداد 25 رہی ہے۔ انگلینڈ اور ویلز کے پسماندہ علاقوں میں آباد افراد کی اموات کی شرح امیر علاقوں میں رہنے والوں سے 2 گنا سے بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق نسلی اقلیتوں کی بڑی تعداد لندن اور برمنگھم میں رہتی ہے جہاں کورونا سے زیادہ اموات ہوئیں۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو نسلی اقلیتوں میں نوجوانوں کی تعداد نسبتا زیادہ ہے جس کی وجہ سے انہیں کورونا کا زیادہ بہتر مقابلہ کرنا چاہئے۔

پسماندہ علاقوں میں لوگ چھوٹے اور بوسیدہ گھروں میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وہ  ایسی خوراک بھی نہیں لے پاتے جو بہتر مدافعت پیدا کرے، ورزش کا کلچر نہ ہونے کے سبب نسلی اقلیتوں کے بہت سے لوگ بڑھاپے سے بہت پہلے ہی کئی بیماروں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔ تاہم خیال ظاہر کیا جارہاہے کہ اس قدر زیادہ اموات کی کوئی ایک وجہ نہیں۔

حکومتی اعداد وشمار کے مطابق پاکستانی ، بھارتی اور افریقی شہری باالترتیب 90 فیصد، 150 فیصد اور 310 فیصد ہیلتھ کئیر کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہے ، یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جن 100 سے زائد ہیلتھ اور سوشل کیئر ورکرز کا کورونا سے انتقال ہوا ان میں سے 63 فیصد کا تعلق بلیک ، اییشن اینڈ مائنارٹی ایتھنک (بی اے ایم ای) طبقے سے تھا۔ حد یہ کہ برطانیہ میں جن پہلے 10 ڈاکٹروں کا انتقال ہوا وہ بھی نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ 21 اپریل تک انگلینڈ کے اسپتالوں میں جن افراد کا کورونا سے انتقال ہوا ان میں 16 فیصد نسلی اقلیتوں ہی کے نمائندے تھے۔ انتہائی نگہداشت میں موجود 34 اعشاریہ 5 فیصد افراد کا تعلق بھی نسلی اقلیتوں ہی سے ہے۔

امپیریل کالج کی تحقیق کے مطابق لندن کے 3 اسپتالوں میں لائے گئے کورونا مریضوں میں سے 40 فیصد کا تعلق نسلی اقلیتوں سے ہے۔ برطانیہ میں سیاہ فام یا ایشیائی افراد کی آبادی محض 10 اعشاریہ 8 فیصد ہے۔ حکومت نے ان افراد کا ڈیٹا جاری نہیں کیا جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو