بھارت: مذہبی حقوق کی پامالی کا پردہ چاک

واشنگٹن میں یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آف انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم آفس میں فرینڈز آف کشمیر اور سکھ فار جسٹس نے بھارت میں مذہبی حقوق کی پامالی پر ایک بریفنگ دی۔

فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن غزالہ حبیب نے بتایا کہ مقبوضہ وادی میں کشمیری صرف اپنی آزادی ہی نہیں بلکہ اپنا مسلم تشخص برقرار رکھنے کیلئے بھی برسرپیکار ہیں۔

غزالہ حبیب نے کہا کہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی جان ، مال اور عزت کو تحفظ حاصل نہیں۔ مسلم کشمیری قیادت جیلوں میں بند ہے۔ 5 اگست سے آج تک تمام کشمیری مسلمان گھروں میں محصور ہیں اور انہیں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے بھی مسجدوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

امریکا: فرینڈز آف کشمیر اور سکھ فار جسٹس کے رہنماؤں کی گفتگو

امریکا: فرینڈز آف کشمیر اور سکھ فار جسٹس کے رہنماؤں کی گفتگو

Posted by Zabar News on Wednesday, April 29, 2020

سکھ فار جسٹس کے رہنما گروپنت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ بھارت میں موجود تمام سکھوں کو زبردستی ہندو قوانین کے تحت جینے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور مخالفین پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ بھارت میں سکھ مذہب کے ماننے والوں کو کسی قسم کی مذہبی آزادی حاصل نہیں۔ دنیا کا فرض ہے کہ وہ مودی انتظامیہ پر دباؤ ڈالے تاکہ بھارت ہندوتوا کے جنون سے باہر نکل کر دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی ان کے مذہب کے تحت جینے کی آزادی دے۔

فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن غزالہ حبیب نے یقین ظاہر کیا کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری مسلمان اپنی آزاد دھرتی پر اپنے مذہب کے مطابق آزادی سے زندگی گزار سکیں گے۔

ٹرینڈنگ

مینو