بینڈ نہ باجا، دلہن اور دولہے راجا، انوکھا بیاہ

کورونا نے خوشیوں کے اظہار کا طریقہ بھی تبدیل کرادیا۔ بینڈ باجے کے ساتھ بارات لے جانے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ دولہے میاں کو اماں اور بھائی کے ساتھ جا کر دلہن لانی پڑگئی۔

کراچی میں ہوٹل بک کرایا ، اچھا سا کارڈ چھپوایا ، رشتے داروں کو بھی دعوت دے کر بلایا لیکن پھر سب کچھ دھرا رہ گیا، دل والے دلہنیا لے جائیں گے کی کہانی میں بھی اتنے موڑ نہیں تھے جتنے شادی کی تاریخ طے ہونے کے بعد عمر اور تحریم نے دیکھے ، 7 اپریل کو ہونے والی شادی کورونا کے خوف اور کہیں سب کچھ بند نہ ہوجائے کے پیش نظر 28 مارچ کو کرنی پڑگئی۔

ریسٹورنٹ کی بکنگ کا نقصان تو ہوا ہی ہوا کھانے میں کئی ڈشز کی تیاری کا آرڈر بھی دیا جاچکا تھا، وبا پھیلتے ہی سارے منصوبے تل پٹ ہوگئے۔

گلستان جوہر کے عمر نے اماں اور بڑے بھائی کا کہا مانا ، باراتی بس کے بجائے کار میں سما گئے اور دلہن لے کر آگئے۔

عمر کا بیاہ

عمر کا بیاہ

Posted by Zabar News on Tuesday, March 31, 2020

دولہے کی والدہ روحی امین نے زبرنیوز کو بتایا کہ بہو کے آنے کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ، لوگوں کو جمع کرکے سیکڑوں افراد کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے سے بہتر سمجھا کہ بڑے بیٹے کو ساتھ لے جاؤں اور دلہن گھر لے آؤں۔ روحی کہتی ہیں شادی میں ان کی بیٹیاں بھی شریک نہیں ہوئیں۔

عمر اور تحریم بھی سادگی سے نکاح اور رخصتی پر مطمئن ہیں ، ان کے خیال میں یہی ممکن تھا ایسی حالت میں۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹرینڈنگ

مینو