کورونا کا علاج، بھارتی وزرا کے بیانات سنیں

بھارت کے ہندو قوم پرستوں نے کورونا وائرس کا جادوئی علاج دریافت کرنے کا دعوی کردیا، بی جے پی رہنماوں کی ایک فوج ہے جو گائے کے پیشاب کو ہر مرض کی دوا قرار دے رہی ہے۔ ان دنوں بھارت میں گائے کا پیشاب دودھ سے زیادہ فروخت کیا جارہا ہے۔

تواہم پرست رہنماوں نے پوری قوم کو تواہم پرستی پر لگادیا ، لوگ گائے کے پیشاب کو امراض کی دوا سمجھنے لگے۔ شاید میر صاحب نے انھی کیلئے کہا تھا یہ تواہم کا کارخانہ ہے ، یاں وہی ہے جو اعتبار کیا۔

گلاس بھرنے والے یہ صرف ایک صاحب نہیں ، ایسے ان گنت ہیں جو سمجھتے ہیں مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے۔

ایسے بھی ہیں جنھیں راہ چلتے گلاس نہ ملے تو چلو سے بھی کام چلا لیتے ہیں۔

گائے کا پیشاب ان دنوں پیسوں میں خریدنا پڑتا ہے ، مختلف سائز کی بوتلوں کے دام مختلف ہیں اور بھارتی رہنماؤں کی دیکھا دیکھی لوگ اسے دوا سمجھ کر پیتے ہیں۔

یہ احمد آباد کی شری ماآننت آنند ہیں ، خاتون اپنے اسپتال میں زیرعلاج کڈنی اور کینسر کے مریضوں کو گائے کے پیشاب سے تیار یہ ادویات استعمال کرا رہی ہیں۔

آسام میں بی جے پی کی رکن اسمبلی اور فلم ڈائریکٹر سومن ہری پریا دو قدم آگے بڑھ گئیں ، ان کا دعویٰ ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، گائے کے پیشاب اور گوبر سے علاج ممکن ہے۔ وزیراعلی اتر پردیش یوگی ادتیا ناتھ جنھیں ٹھیک سے کورونا کہنا بھی نہیں آتا ، گائے کے پیشاب کو صرف کورونا ہی نہیں ہر مرض سے بچنے کا نسخہ سمجھتے ہیں۔ آئیں سنیں ان دونوں شخصیات کا کیا دعویٰ ہے۔

اب ہیلتھ اور فیملی ویلفیئر کے ان پڑھ بھارتی وزیر اشونی کمار کی بھی سن لیں۔

بھارتی حکومت اتنی گھمبیرتا سے کام کر رہی ہے کہ طبی ماہرین نے سر پکڑ لئے ہیں۔

بھارت کے معروف کستورابا میڈیکل کالج میں ریسرچر اننت بھان کہتے ہیں کورونا سے ناواقفیت اور تواہم پرستی صورتحال خراب کرسکتی ہے ، کورونا مسلسل پھیل رہا ہے اور غیر ذمے دارانہ بیانات کے اثرات بھانک ہوسکتے ہیں۔  سائسنی علوم کے ماہر انکیت سولو کا بھی یہی کہنا ہے کہ سیاست دان عموما غیر سائنسی دعوے کرتے رہتے ہیں لیکن پچھلے 6 سال سے ان میں تیزی آگئی ہے ، صورتحال اتنی بگڑ گئی ہے کہ یونیورسٹیز کے واٰئس چانسلرز بھی سیاستدانوں کی قربت کیلئے ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو