سہولتیں فراہم نہیں کی جارہیں، زائرین کا شکوہ

پاکستان ہاوس تفتان کے قرنطینہ میں مقیم 15 سو زائرین کو کلیئر قرار دے کر گھروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تفتان میں مقیم زائرین نے شکایت کی ہے کہ انھیں سہولتیں فراہم نہیں کی جارہیں۔

تفتان میں پاک ایران بارڈر سے آنے والے زائرین کو 15 دن قرنطینہ میں رکھا گیا، اس دوران زائرین میں کورونا کی علامات سامنے نہیں آئیں، مشتبہ کیس رپورٹ نہ ہونے پر 15 سو افراد کو گھر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

قرنطینہ میں رکھے گئے افراد نے سہولتیں فراہم نہ کرنے کا شکوہ کیا ہے۔

بلوچستان حکومت نے دیگر صوبوں کے رہائشی زائرین کو تفتان میں رکھنے سے انکار کردیا ہے ، ایسے افراد کو صوبوں کی انتظامیہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، زائرین کے ٹیسٹ اور قرنطینہ میں رکھنے کی ذمے داری صوبوں کی ہوگی۔

حکومت نے ایران میں کورونا وبا پھیلن کے بعد 23 فروری کو تفتان بارڈر بند کیا تھا جو اب تک بند ہے.

ٹرینڈنگ

مینو