جزوی لاک ڈاؤن، تعمیراتی صنعت کھل گئی

وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن میں 2 ہفتے کی توسیع اور تعمیراتی صنعت آج سے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔

وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل کو آرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں وبا کا پھیلاو اور لاک ڈاؤن کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا ، بعد میں عمران خان نے بتایا کہ وبا توقع سے 30 فیصد کم پھیلی ، ابتک 190 اموات کا تخمینہ تھا اور ہلاکتیں کم ہوئی ہیں ، وزیراعظم نے خبردار کیا کہ اگر بے احتیاطی کی گئی تو وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے، اس صورت میں ہیلتھ سسٹم وبا کا مقابلہ نہیں کرسکے گا۔

عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں توسیع کی گئی ہے ، اسکول کالجز بند رہیں گے، تمام اجتماعات پر پابندی رہے گی۔ لاک ڈاؤن سے غریب طبقہ متاثر ہوا ہے، اسی لئے شہروں میں آج سے کنسٹرکشن انڈسٹریز مرحلہ وار کھولی جارہی ہے۔ تعمیراتی صنعت کیلئے بڑا پیکج بھی لایا جارہا ہے۔ صوبے اپنی ضرورت کو دیکھ کر صنعتیں کھول سکتے ہیں ، صوبوں کے درمیان 98 فیصد اتفاق ہوگیا ہے کہ کون کون سی انڈسٹریز کھولنی ہیں.

وزیراعظم نے رمضان میں عبادات کے معاملے پر علما سے مشاورت کا اعلان کیا اور یہ بھی بتایا کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن لانے کا طریقہ کار طے کرلیا گیا ہے۔

عمران خان نے کسانوں کو بھی خوشخبری سنائی اور بتایا کہ گندم کی کٹائی میں رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی ، انھوں نے گندم اور ڈالرز کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی پلاننگ کرنے والوں کو خبردار کیا ، انھوں نے کہا کہ اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کیلئے آرڈیننس لا رہے ہیں، اس کے تحت سخت سزائیں دی جائیں گی۔

وزرا اور معاونین نے بتایا کہ 20 اپریل کے بعد 6 ایئرپورٹس کھلے رہیں گے، تعمیراتی صنعت سے منسلک دیگر کاروبار کئے جاسکیں گے ، اینٹ اور سیمنٹ کا کاروبار ممکن ہوگا ، تمام ایکسپورٹ انڈسٹری کھولی جائے گی، کتابیں اور اسٹیشنری کی دکانیں کھلیں گی، الیکٹریشن ، پلمبر اور ریڑھی لگانے والوں کو بھی کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

ٹرینڈنگ

مینو