جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا بیان ریکارڈ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں جائیدادوں سے متعلق ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرادیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کی، جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کا نام سرینا ہے اور ان کے پاس اسپینش پاسپورٹ ہے۔ انھوں نے اپنی تینوں جائیدادوں کی قیمت بتائی اور کہا کہ 2018 میں جمع کرائے گئے ٹیکس ریٹرن میں ان تینوں پراپرٹیرز کا ذکر ہے جن پر بات ہورہی ہے۔ انھوں نے کلفٹن میں جائیداد فروخت کی ہے ، وہ پاکستان اور لندن میں ٹیکس ادا کرتی ہیں۔

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ بیان ریکارڈ کراتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں انھوں نے بتایا کہ شادی کے 21 سال بعد لندن میں جائیداد خریدی، 2003 میں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ بنا تب شوہر جج نہیں تھے،  پہلا ویزا ختم ہونے پر دوسرے ویزے کیلئے درخواست دی اس وقت بھی شوہر سپریم کورٹ کے جج نہیں تھے، 2020 میں ایک سال کا ویزا ملا اور ہراساں کرنے کیلئے کم مدت کا ویزا جاری کیا گیا، انھوں نے کہا کہ اپنوں نے ایسا کیس بنایا جیسے وہ ماسٹر مائنڈ مجرم ہوں، الزام لگایا گیا کہ جج آفس کا غلط استعمال کیا۔

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے بتایا کہ وہ امریکن اسکول کراچی میں ملازمت کرتی رہی ہیں، انھیں گوشوارے جمع کرانے پر ٹیکس سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا اور پھر ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔

ٹرینڈنگ

مینو