حادثہ کھلے پھاٹک پر پیش آگیا،بس 3 ٹکڑوں میں تقسیم

روہڑی کے قریب پاکستان ایکسپریس کی ٹکر سے مسافر بس تباہ ہوگئی، حادثے میں 20 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے۔ کئی افراد زخمی ہوئے ہیں اور جاں بحق افراد کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کے مطابق حادثہ کندھرا پھاٹک پر پیش آیا ، پاکستان ایکسپریس کراچی سے راولپنڈی جارہی تھی اور خالی پھاٹک پر کراچی سے سرگودھا جانے والی بس سے ٹکرا گئی ، حادثے کے نتیجے میں بس 3 حصوں میں تقسیم ہوگئی اور جاں بحق افراد میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ کمشنر سکھر شفیق احمد مہیسر نے بتایا کہ زخمیوں کو روہڑی اور سکھر کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے ، انھوں نے بھی تصدیق کی کہ اس پھاٹک پر کوئی اہلکار تعینات نہیں تھا۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے تمام زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئے روز کے ٹرین حادثات وفاقی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں، انھوں نے سوال کیا کہ ایک ٹرین حادثے پر استعفے کی باتیں کرنے والے عمران خان آخر کتنے حادثوں کے بعد جاگیں گے؟

وزارت ریلوے کے ترجمان نے بتایا کہ وزیر ریلوے شیخ رشید نے واقعے پر اظہار افسوس کیا ہے ، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ حادثہ بس ڈرائیور کی غلطی کے باعث پیش آیا ، انھوں نے بتایا کہ ریلوے کے 2 ہزار 470 پھاٹک ایسے ہیں جہاں کوئی شخص تعینات نہیں ، وزارت نے اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کو کئی بار خطوط لکھ کر آگاہ کیا ہے اور بار بار کہا گیا ہے کہ یہاں اہلکار تعینات کئے جائیں ، ترجمان نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے۔ حادثے کے بعد کئی ٹرینیں تاخیر کی شکار ہوئیں اور کراچی سے لاہور جانے والی قراقرم ایکسپریس کو خیرپور ، ملت ایکسپریس کو سیٹھارجہ اور کراچی ایکسپریس کو بھریاروڈ میں روکنا پڑا۔

ٹرینڈنگ

مینو