رولز آف گورننس طے کرنے ہوں گے، شاہد خاقان

نون لیگی وفد نے حکمراں اتحاد میں شامل ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز جا کر رہنماوں سے ملاقات کی ہے البتہ متحدہ کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا ہے کہ وہ حکومت گرانا چاہتے ہیں نہ نون لیگی وفد سے حکومت بنانے کی بات ہوئی ہے۔

سابق وزیراعظم اور نون لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، مریم اورنگزیب اور محمد زبیر نے متحدہ مرکز جا کر ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات کی ، اس دوران ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ ملک آئین کے مطابق چلنا چاہئے، اب طے کرنا ہوگا کہ رولز آف گورننس کیا ہیں۔ اسٹیک ہولڈرز مل کر بیٹھیں تاکہ ملکی مسائل حل کرنے کا طریقہ کار طے کیا جاسکے، سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ سیاسی طور پر چاہیں گے کہ حکومت 5 سال پورے کرے تاکہ کھل کر عوام کے سامنے آجائے۔ نون لیگ اقتدار کی بات نہیں کرتی اور تمام صوبوں میں مقامی حکومتوں کا ایک جیسا نظام چاہتی ہے ، نون لیگ کسی مائنس ون یا ٹو پر یقین نہیں رکھتی ، اس سوال پر کہ کیا حکومت گرانے سے متعلق بات ہوئی، شاہد خاقان نے بتایا کہ وہ حکمراں اتحاد میں شامل جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں اور جواب دینا مشکل ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ حکومت گرانے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی ، نون لیگ سیاسی جماعت ہے ، یہ حکومت مخالف ہے لیکن ملک کے خلاف نہیں۔ آئین نے عوام کو بااختیار بنایا ہے اور آئین پر عمل ہونا چاہئے۔

اس سے پہلے لیگی وفد کراچی پہنچا اور مزار قائد پر حاضری دی تھی ، شاہد خاقان عباسی نے میڈیا ٹاک میں حکومت کو الیکشن کرانے کا چیلنج کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ انتخابات ہوئے تو نون لیگ کامیاب ہوگی، نوازشریف کو وطن لانے کیلئے برطانیہ کو لکھے گئے حکومتی خط کی حیثیت ردی کے کاغذ سے زیادہ نہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو