ضمانت کی درخواست پر سماعت 16 مارچ کو ہوگی

سندھ ہائی کورٹ نے جیالے رہنما خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف نیب سکھر کی درخواست پر سماعت کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ خورشید شاہ سمیت 18 افراد کے خلاف ایک ارب 23 کروڑ روپے کا کرپشن ریفرنس ہے ، ملزم گرفتار ہے اور احتساب عدالت میں کیس بھی چل رہا ہے۔

عدالت نے نیب اور خورشید شاہ کے وکیل کے دلائل سن کر احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ بعد میں پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے وکیل نے بتایا کہ انھوں نے ضمانت کیلئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے اور سماعت 16 مارچ کو ہوگی۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے ریفرنس دائر نہ ہونے کے باعث 17 دسمبر کو خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا، نیب نے یہ فیصلہ سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ خورشید شاہ کو ستمبر 2019 میں آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ، ریفرنس میں خورشید شاہ کی اہلیہ ، بیٹوں اور بھتیجوں سمیت 18 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو