دوسروں کی جھولیاں بھرنے والوں کا امداد پر گزارا

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مسلم کش فسادات کے بعد زندگی اب تک معمول پر نہ آسکی، سیکڑوں مسلم خاندان لوگوں کی اترن پہننے اور  امدادی سامان لینے کیلئے قطاروں میں لگنے پر مجبور ہوگئے ہیں، کئی ایسے ہیں جنھیں اب تک ان کے پیاروں کی میتیں بھی نہیں مل سکیں۔

دہلی فسادات میں اس کمسن نعمت کا بھی گھر جلایا گیا تھا ، کل تک دوسروں کی مدد کرنے والی اس بچی کی ماں رحمت اب بیٹی کیلئے اترن لینے پر مجبور ہے ، چادر سے منہ چھاپے رخسانہ کا غم بھی یہی ہے جنھیں اپنی پوتی کیلئے کپڑوں کی ضرورت ہے۔

وہ لوگ جو بھکاری کو خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے تھے اب خود امدادی سامان کیلئے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہیں۔ رہنما روز آتے ہیں سامان بانٹتے ہیں اور تصویریں کھنچوا کر چلے جاتے ہیں۔

زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر بنائے گھر پھونک دیئے گئے تو لوگوں نے عارضی پناہ گاہوں میں سر چھپانے کیلئے جگہ ڈھونڈ لی۔

انتہا پسندوں سے خوفزدہ لوگ آہستہ آہستہ گھروں کو واپس آرہے ہیں ، جلی ہوئی دیواروں کے درمیان ماضی یاد کرکے فریاد صرف اسی خاتون کی زبان پر نہیں ، یہ مناظر ان دنوں دہلی کی گلی گلی دیکھے جاسکتے ہیں۔

دولت پھر آجائے گی ، گھر دوبارہ تعمیر کرلئے جائیں لیکن قتل کئے گئے پیارے واپس نہیں آسکتے۔

بیٹی کو باپ کی صرف ٹانگ ملی ہے ، لاش کی شناخت کیلئے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے جارہے ہیں، پہلے جان بچانے کیلئے جتن کرنے والے ان دنوں لاش لینے کیلئے دھکے کھا رہے ہیں۔

دہلی میں تقریبا 70 افراد کا قتل بی جے پی رہنما کپل مشرا کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد کیا گیا تھا اور یہ بات اب بھارتی میڈیا نے بھی تسلیم کرلی۔

کپل مشرا اور آر ایس ایس کے دیگر غنڈوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ؟ کیا انھیں سزا ملے گی یا گجرات فسادات میں ملوث افراد کی طرح یہ بھی دندناتے پھرتے رہیں گے ؟ یہی وہ سوال ہیں جو ہر امن پسند بھارتی انتہا پسند وزیراعظم نریندر مودی سے پوچھ رہا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو