دو پیش گوئیاں درست ، کیا تیسری بھی ہوگی ؟

عمائمہ خان

پاکستان کی معاشی صورتحال پر لکھنے بیٹھی تو حکومتی پالیسیوں پر غور کرتے کرتے ابو یاد آگئے جنھیں بچھڑے 2 ماہ ہوچکے ہیں ، آنکھوں سے نہ وہ چہرہ اوجھل ہوتا ہے اور نہ کانوں سے وہ آواز، گویا میری آنکھیں تمہارے منظروں میں قید ہیں اب تک۔

فائن آرٹس چھوڑ کر ماس کمیونیکیشن کا انتخاب میرے لئے کافی مشکل تھا لیکن مجھے کبھی بھی اپنے فیصلے پر پچھتاوا نہیں ہوا اور اس کی وجہ تھی ۔۔ میرے ابو ۔۔

نوائے وقت میں انٹرن شپ سے لے کر نیوز چینلز میں اچھی پوزیشن تک کے سفر میں ابو کے چہرے پر جو خوشی میں نے محسوس کی اس نے کبھی مجھے پچھتانے نہیں دیا۔ میں ماسٹرز کے ریسرچ پراجیکٹ کے لئے ماضی کے مشہور اخبار خواتین کی ایڈیٹر مسسرت جبین صاحبہ سے ملنے جاتی تھی ، لکھنے بیٹھی تو ان کا ایک جملہ یاد آگیا وہ کہتی تھیں صحافت شعبہ نہیں لائف اسٹائل ہے۔

ابو خود صحافی نہیں تھے لیکن ان کا نیوز سینس کمال کا تھا ، 7 سال کے کریئر میں مجھے بہترین سینئرز ملے جنھوں نے بہت سکھایا لیکن جو تکنیکی باتیں ابو پوائنٹ آوٹ کرتے تھے وہ میرے لئے حیران کُن ہوتی تھیں۔ ماہنامہ نونہال ، ساتھی ، تعلیم و تربیت اور ریڈر ڈائجسٹ کے ساتھ ہیرالڈ اور تکبیر رسالے باقاعدگی سے ہمارے گھر آتے تھے ، مرچنٹ نیوی میں جاب کی وجہ سے ابو  سات آٹھ مہینے بعد لوٹتے تو نیوز ویک اور ٹائم میگیزین کا ڈھیر بھی اُن کے ساتھ آتا۔ ایک انگلش اور ایک اردو اخبار پڑھے بغیر اُن کی صبح نہیں ہوتی تھی ، شام کو گھر آتے تو اخبار اٹھا کر مجھ سے پوچھتے ڈان کا فلاں کالم پڑھا ؟ اور میں یہ کہہ کر اخبار لے لیا کرتی کہ ابھی پڑھتی ہوں۔ سچ تو  یہ ہے کہ اتنے بھاری بھرکم کالم اور آرٹیکلز پڑھنا میں ہمیشہ گول کر دیتی تھی۔

میں آفس سے آکر انھیں بتاتی کہ میں نے آج یہ پیکج بنایا ، وہ خبر بنائی ، تو ان کے چہرے پر خوشی کی جھلک آجاتی ، پھر پروڈیوسرز کے رویوں سے لے کر آفس پالیٹکس تک ہر چیز ڈسکس ہوتی اور ابو مجھے ایسے سمجھاتے کہ مجھے پروڈیوسر حضرات دنیا کے مظلوم ترین افراد لگنے لگتے ، ابو کہتے تھے کہ اچھا منیجر وہی ہے جو ڈپلومیسی سے اپنے ماتحتوں سے کام لے اور اچھا ماتحت وہ ہے جو پروڈیوسرز کے رویوں کو بھی ڈپلومیسی کے ساتھ ڈیل کر لے ، وہ بے انتہا پروفیشنل تھے، انھیں میرا اپنے آف ڈے سے اگلے اور پچھلے دن چھٹی کرنا بہت ناگوار گزرتا تھا۔ اُن کے نزدیک آف ڈے کے ساتھ کی گئی چھٹی جرم تھی۔ اس لئے آفس سے چھٹی لیتے ہوئے مجھے بلیٹن پروڈیوسر سے زیادہ ابو کو جواب دینے کی فکر ہوتی تھی کیونکہ وہ ہر دفعہ یہی کہتے یار نوکری کرنی ہے تو ٹھیک سے کرو ، یہ روز روز کی چھٹیاں کوئی طریقہ نہیں ، ان کے لئے مستقل مزاجی بہت اہم تھی۔ مجھے دو ہزار بارہ میں ایک چینل سے جاب آفر ہوئی۔ ابو نے کہا کہ تین برسوں میں یہ تمہارا تیسرا چینل ہوگا ، ضرور جاؤ لیکن اسے چھوڑنے کا نہ سوچنا۔ میں نے کہا تنخواہ کچھ خاص نہیں ، ابو نے کہا پیسے اور عہدوں کے پیچھے نہ بھاگو ، یہ خود ملیں گے تم بڑے چینل میں کام سیکھو اور واقعی جو سکون اور عزت کام سیکھنے اور کام کو اچھا کرنے میں ہے وہ کسی مشہوری میں نہیں۔ جس دن پاکستان کا کرکٹ میچ ہوتا اور میری شفٹ ہوتی اس دن ابو یہ ہی کہتے آج تو کام زیادہ ہوگا، چلو اچھا ہے لگی رہو۔

ابو کے ساتھ بیٹھ کر نیوز دیکھنا کافی مشکل کام تھا کیونکہ وہ بریکنگ ٹیمپلیٹ اور ٹکرز جنھیں عرفِ عام میں لال ڈبہ اور پٹی کہا جاتا ہے پر املا کی غلطیاں فورا پکڑ لیتے ، ساتھ ہی جملے کی ساخت کس طرح غلط ہے یہ بھی سمجھا دیتے۔ اکثر ٹاک شوز کی لیڈ اسٹوری دیکھ کر ٹی وی بند کردیتے ، کہتے یار یہ خبر میں دو دن پہلے ایک انگش نیوز پیپر میں پڑھ چکا ہوں۔ میں دفاع کرتے ہوئے کہتی کہ ابو اب یہ تجزیاتی لیبارٹری سے گزرے گی تو وہ کہتے کہ کریں تجزیہ ضرور کریں لیکن اسے بریکنگ نیوز کہہ کر تو نہ چلائیں۔ اس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تھا، ابو صرف املا ہی نہیں ویژول کی ہیرا پھیری کو بھی سمجھ لیتے تھے اور فورا نشاندہی کرتے تھے ، نیوز کے ساتھ گانا چلتے ہوئے دیکھتے تو مجھے کہتے کہ تم نے کون سا گانا لگایا ہے آج ؟ یہ صحافت نہیں شرارت ہے۔ معاشی ذمہ داریاں ابو کو مرچنٹ نیوی کی طرف لے گئیں ورنہ میرے حساب سے ابو سی مین نہ ہوتے تو بہترین صحافی ہوتے۔

نوائے وقت میں انٹرن شپ کے دوران میرے کچھ کالمز چھپے تو ابو نے موضوع کے انتخاب پر داد دی۔ وہ چاہتے تھے کہ میں انگلش جرنلزم کی طرف جاؤں۔ میں انھیں یہ سمجھاتی تھی کہ ابو پاکستان میں انگلش جرنلزم کا کوئی اسکوپ نہیں ، آپ عام آدمی سے کنیکٹ نہیں ہوسکتے ، سیاسی معالات پر بہت دیر تک ہم باپ بیٹی بات کرتے تھے ، کوئی بھی آئینی یا عدالتی خبر ہوتی اور مجھے سمجھ نہیں آرہی ہوتی تو میں ابو سے لازمی ڈسکس کرتی تھی بلکہ وہ خود ہی ہر موضوع کو بہت آسان کر کے سمجھایا کرتے تھے ، میں ان سے کہتی تھی کہ نیوز چینلز میں لڑکیوں کو مین نیوز سے دور رکھا جاتا ہے ، حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اور نہ ہی ان پر اعتماد کیا جاتا ہے ، اس کا جواب مجھے یوں ملتا کہ انسان کو ثابت کرنا پڑتا ہے ، منوانا پڑتا ہے کہ وہ کیا کرسکتا ہے اور پروفیشنلزم یہی ہے کہ ہر خبر پر محنت کرو، چاہے وہ سافٹ نیوز ہو یا یارڈ نیوز۔ ابو ساری زندگی جماعت اسلامی کو ووٹ دیتے رہے البتہ ایک بار پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ، اس کے بعد انھوں نے کہا تھا کہ تحریک انصاف تو کامیاب ہوجائے گی ، عمران خان وزیر اعظم بھی بن جائیں گے لیکن پاکستان کے سیاسی نظام میں نہیں چل سکتے۔

ٹرینڈنگ

مینو