بچوں سے زیادتی پر سزائے موت ہونی چاہئے، جماعت اسلامی

قومی اسمبلی نے زینب الرٹ بل کو سینیٹ ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا۔ بل کا اطلاق پورے ملک میں ہوگا۔

وزیرانسانی حقوق شیری مزاری نے یہ بل ایوان میں پیش کیا جو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، بل سے سزائے موت اور قصاص کو ختم کردیا گیا ہے، بچوں کے خلاف جرائم پر زیادہ سے زیادہ 14 اور کم سے کم 7 سال قید کی سزا ہوگی، بچے کے اغوا یا زیادتی کی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد 3 ماہ میں مقدمے کی سماعت مکمل کرنی ہوگی، پولیس رپورٹ درج کرنے کے بعد 2 گھنٹے میں کارروائی کی پابند ہوگی۔

جماعت اسلامی کے رہنما مولانا اکبر چترالی نے مخالفت کی اور کہا کہ بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سزائے موت نہ دے کر درندوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، بچوں سے زیادتی پر پھانسی ہی ہونی چاہئے۔

ٹرینڈنگ

مینو