سہیل احمد اور پروفیسر علوی کیلئے جاپانی اعزاز

جاپانی حکومت نے پاک جاپان بزنس فورم کے سابق صدر سہیل پی احمد اور ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز کے سابق پوفیسر محمد رئیس علوی کو اعلی شاہی اعزازات سے نوازا ہے۔

حکومت جاپان نے دونوں ممالک میں ہم آہنگی اور معاشی تعلقات کو فروغ دینے پر پاکستان جاپان بزنس فورم کے سابق چیئرمین سہیل پی احمد کو دی آرڈر آف رائزنگ سن ، گولڈ ریز ود نیک ربن سے نوازا ہے، سہیل احمد مئی 2012 سے اپریل 2020 تک پاکستان جاپان بزنس فورم کے چیئرمین رہے، سہیل احمد اس فورم کے بانی ارکان میں سے ایک ہیں ، سہیل احمد نے پاکستانی اور جاپانی کمپنیز کے درمیان آٹو موبائل انڈسٹریز کے تحت طے پانے والے معاہدوں میں معاونت اور تعاون کے حوالے سے یادگار کردار ادا کیا ، دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے میں سہیل احمد کا اہم کردار ہے ، سہیل احمد کی کوشش سے ہی پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز کی تشکیل کے بعد جاپانی کمپنیز کیلئے سرمایہ کاری کا سازگار ماحول ممکن ہوا۔

ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز کے سابق پروفیسر اور مترجم پروفیسر محمد رئیس علوی کو پاک جاپان ثقافتی تعلقات اور باہمی ہم آہنگی کیلئے خدمات پر دی آرڈر آف رائزنگ سن ، گولڈریزود روزیٹ دیا گیا۔

پروفیسر علوی طویل عرصے سے پاک جاپان سماجی و ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے کام کر رہے ہیں ، انھوں نے جاپانی کلاسیکل شاعری ہائیکو اور واکا کا اردو ترجمہ کرکے نہ صرف اسے پاکستان میں متعارف کرایا بلکہ اس کے فروغ کا بھی باعث بنے ، چھٹی صدی عیسوی میں لکھی گئی قدیم ترین جاپانی نظم مانیوشو کا چاند کے چار رنگ کے نام سے اردو ترجمہ کرنے کا سہرہ بھی پروفیسر علوی ہی کے سر جاتا ہے ، ایدو عہد میں جاپانی ادب کا شاہکار سمجھے جانے والی اوکونوہوسومیچی کا اردو ترجمہ اندرون شمال کا تنگ راستہ بھی پروفیسر علوی کا ہی کارنامہ ہے ، انہی خدمات کے باعث پروفیسر علوی کو جنوبی ایشیا میں جاپانی ادب اور ثقافت کے فروغ میں کلیدی مقام حاصل ہے، انھوں نے جاپان میں پاکستانی ثقافت اور اردو کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا، آپ نے 1987 میں جاپانی پروفیسر تاکیشی سوزوکی کے ساتھ مل کر ٹیکسٹ بک شائع کی ، اس کے بعد 2007 مں شاعری کی کتاب اردو غزل کے ذریعے پاکستانی شعرا کو جاپان میں انہی کی زبان میں متعارف کرایا۔ ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز میں گیسٹ پروفیسر کی حیثیت سے تعیناتی اور شعبہ تعلیم سے 40 سالہ وابستگی کے باعث پروفیسر علوی پاک جاپان ہم آہنگی بڑھانے میں کامیاب ہوئے ، وہ پاکستان جاپان کلچرل ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو بورڈ ممبر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو