اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت خارجہ کو 2ہفتے دے دیئے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چین سے پاکستانی شہریوں کو نہ نکالنے کے فیصلے پر نظر ثانی کا حکم دیدیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے چین میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق درخواست کی سماعت کی، وزارت خارجہ کے ڈی جی چائنا نے تحریری رپورٹ پیش کی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بنگلا دیش سمیت مختلف ممالک شہریوں کو نکال رہے ہیں،23 ممالک شہریوں کو محفوظ کرنے کے انتظامات کرسکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں کرسکتا؟

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آسٹریلیا نے چین سے نکالے گئے شہریوں کو کسی آئی لینڈ پر رکھا ہے ، آپ گوادر کے پاس رکھ لیں ، پاکستانی طلبا چین میں محصور ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ حکومت شہریوں کے تحفظ میں غیرسنجیدہ ہے ، آپ نے 20 ملین افراد کو سوچ کر فیصلہ کرنا ہے۔

وزارت خارجہ کے نمائندے نے بتایا کہ چین سے مسافروں کے آنے پر پابندی نہیں ، ایئرپورٹس پر اسکریننگ کی جاتی ہے ، چین نے کورونا وائرس سے متاثرہ ووہان سٹی کو مکمل لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے، جو بھی فیصلہ ہوگا ملک اور طلبا کے مفاد میں ہوگا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت چاہتی ہے ریاست شہریوں کی ذمہ داری لے، ایک پاکستانی کو بھی کچھ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا۔ انھوں نے وزارت خارجہ کے نمائندے سے کہا کہ فیصلے پرنظرثانی کریں اور دو ہفتے کا وقت لے لیں۔

ٹرینڈنگ

مینو