عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی محفوظ

افغان دارالحکومت کابل میں حزب وحدت پارٹی کے سربراہ عبد العلی مزاری کی برسی کی تقریب کے دوران حملے میں 30 افراد جاں بحق ہوگئے،حملے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے۔

افغانستان میں امن معاہدے کے بعد سب سے بڑے حملے میں  عبداللہ عبداللہ ، حامد کرزئی اور دیگر سیاسی رہنما محفوظ رہے، حملہ اس وقت کیا گیا جب امن کونسل کے چیئرمین محمد کریم خلیلی خطاب کر رہے تھے۔

حملے میں 42 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔

صدر اشرف غنی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے ، انھوں نے عبداللہ عبداللہ کو فون کرکے ان کی خیریت بھی دریافت کی ہے۔

طالبان نے حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور داعش نے کارروائی کی ذمے داری قبول کی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو