سارے پراجیکٹ مٹی کا ڈھیر ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کراچی میں عمارت گر گئی 16 لوگ مرگئے لیکن سب حکام آرام سے سوتے رہے، ہلاکتوں کا ذمے دار کون ہے، کراچی میں سارے پراجیکٹ مٹی کا ڈھیر ہیں جو گرجائیں گے۔

سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے کراچی رجسٹری میں سرکلر ریلوے کی بحالی اور انسداد تجاوزات سمیت اہم کیسز کی سماعت کی۔ اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی کو احساس ہے کہ لوگ مر رہے ہیں، نیوزی لینڈ میں واقعہ ہوا تو وزیراعظم ایک ہفتے نہیں سوئی تھی۔ ایڈوکیٹ جنرل بولے 20 افسروں کو معطل کیا گیا ہے ، اس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ یہ سب دکھاوا ہے، چھوٹے چھوٹے پلاٹس پر اونچی عمارتیں بنا دیتے ہیں، ہم نے کہا تھا غیر قانونی تعمیرات کا مکمل ریکارڈ دیں اس کا کیا ہوا ؟ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ رپورٹ تیار کرلی گئی ہے۔

عدالت کے حکم پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ سرکلر ریلوے میں پیش رفت ہوئی ہے، کراچی ماس ٹرانزٹ پلان ترتیب دے دیا گیا ہے، چیف جسٹس نے ماس ٹرانزٹ کے نقشے پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔

چیف جسٹس کے پوچھنے پر حکام نے بتایا کہ اگلے سال گرین لائن مکمل ہوجائے گی۔ چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اسی سال کیوں نہیں، کمیشن ملنے تک ٹھیکیدار کو پیسہ نہیں دیا جاتا، ناظم آباد جا کر دیکھیں کوئی کام نہیں ہورہا، پورا گینگ کام کر رہا ہے اور صرف کاغذات میں کام ہورہا ہے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن ، واٹر بورڈ کس کس کی بات کریں، سارے ادارے ہی چور ہیں اور کام نہیں کر رہے۔

ٹرینڈنگ

مینو