1987 کے بعد اسٹاک مارکیٹ کا بدترین بحران، کاروبار ٹھپ

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد تقریبا 5 ہزار ہوچکی ہے، اٹلی میں مزید 189 ، ایران 75 ، اسپین 31 ، فرانس 13 ، جرمنی 3 ، امریکا 2 ، سوئٹزر لینڈ 3 ، ناروے 1، جاپان 4 ، برطانیہ 2 ،یونان ، عراق ، مصر اور بھارت میں 1 ، 1 شہری ہلاک ہوگیا ہے، امریکا میں ہلاکتوں کے بعد اہم مقامات کی بندش کا آغاز کردیا گیا ہے۔

اٹلی میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 15 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ، حکام کہتے ہیں لاک ڈاون فائدہ مند ثابت ہورہا ہے ، یہاں اسٹورز میں خریداروں کیلئے زمین پر نشان لگائے گئے ہیں تاکہ لوگوں کے درمیان مخصوص فاصلہ رہے۔

برطانیہ میں 10 اموات ہوچکی ہیں اور وزیراعظم نے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے ، حکومت نے عوام کو کھانسی یا بخار ہونے پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے، طبی ماہرین کہتے ہیں ملک میں کورونا کے 10 ہزار مریض ہوسکتے ہیں۔کورونا کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے کاروباری افراد نے سرمایہ کاری روک دی ہے اور مارکیٹ میں شیئر کی قیمتیں مسلسل کم ہورہی ہیں،  یہاں انڈیکس 10 فیصد تک گرا ہے جو 1987 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔

اسپین میں 85 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ فرانس میں یہ تعداد 60 سے زائد ہے، فرانس میں پیر سے تمام اسکول بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ،کاروباری اداروں سے کہا جا رہا ہے کہ ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی اجازت دی جائے ، حکومت نے بیماروں اور 70 سال سے زائد عمر کے افراد کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کردی ہے۔

امریکی دارالحکومت کی اہم عمارتیں بند کی جانے لگی ہیں، ان میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی وہ عمارتیں شامل ہیں جہاں کانگریس ارکان یا ان کا عملہ کام کرتا ہے۔

وائٹ ہاوس کے دروازے تاحکم ثانی عوام کیلئے بند کردیئے گئے ہیں۔

نیویارک میں ایمرجنسی لگادی گئی ہے اور 5 سو سے زائد افراد کا اجتماع ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔

نیویارک سٹی کی آمدنی کا اہم ذریعہ براڈوے 12 اپریل تک بند رہے گا جبکہ دیگر اہم مراکز بھی بند کردیئے گئے ہیں۔

کیلی فورنیا میں ڈھائی سو سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہے، تاریخ میں چوتھی بار کیلی فورنیا کا ڈزنی لینڈ بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ امریکا میں کھیلوں کے تمام اہم مقابلے منسوخ کئے جاچکے ہیں، محکمہ صحت کے اعلی ترین حکام نے اعتراف کیا ہے کہ کورونا وائرس کی تشخیص کا نظام ناکام ہورہا ہے۔

سینیٹر لنڈسے گراہم نے تنہائی اختیار کرلی ہے ، انھوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ اس تقریب میں شرکت کی تھی جہاں برازیل کے صدر کے پریس سیکریٹری بھی موجود تھے جن کا بعد میں کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

یورپ کی طرح امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی بدترین مندی دیکھی گئی ہے ، کاروبار روکنے کے بعد دوبارہ شروع کیاگیا تب بھی شیئرز کی قیمتوں میں استحکام نہ آسکا اور اسٹاک مارکیٹ کا ایک ہفتے میں دوسری بار دھڑن تختہ ہوا ہے۔

ان حالات میں امریکی صدر نے ٹوکیو اولمپکس ایک سال کیلئے ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے، ٹوکیو انتظامیہ کا کہنا ہے اگرچہ فی الحال یہ آپشن زیرغور نہیں لیکن ایونٹ متاثر ہوسکتا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو