عوام یوٹیلٹی اسٹور سے سستا سامان خریدیں، مشیرخزانہ

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ جو لوگ آئی ایم ایف کے کوریڈور میں نہیں گھس سکتے وہ بھی آئی ایم ایف کے بڑے بڑوں پر تنقید کر رہے ہیں، آئی ایم ایف کے پاس جانے سے نقصان نہیں فائدہ ہوا۔ مشیر خزانہ نے عوام کو سستی اشیا کیلئے یوٹیلٹی اسٹور جا کر خریداری کا بھی مشورہ دیدیا۔

مشیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے پاس جانے پر تنقید کرانے والوں کو کھری کھری سنادیں، قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے والوں کو آئی ایم ایف کے پاس جانے پر تنقید کرنا زیب نہیں دیتا ، لوگوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے کیلئے آئی ایم ایف ہی کے لوگ بیٹھے تھے ، پاکستان کو رضا باقر پر فخر ہونا چاہئے۔

حفیظ شیخ نے بتایا کہ رضا باقر نے آئی ایم ایف سے استعفی دیا کیونکہ وہ پاکستان کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے فائدہ ہوا ، 6 ارب ڈالر آسان شرائط پر لئے ، اس سے ساری دنیا کو اعتماد ملا کہ پاکستان ٹیکس جمع کرنے کیلئے تیار ہے ، اس کے بعد ورلڈ بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے ہماری سپورٹ میں اضافہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت نے 7 ماہ میں اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیا اور اب لے گی بھی نہیں۔ 20 ارب ڈالر کا خسارہ 2 سال میں 2 ارب ڈالر رہ گیا اور ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے۔

مشیر خزانہ نے مہنگائی کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ روپے کی قدر کم ہوئی پچھلے 3 سال بجلی کی قیمت نہیں بڑھائی گئی اور اسٹیٹ بینک سے قرض لیا گیا اس سے بھی مہنگائی ہوئی ، گزشتہ حکومت نے ڈالر کو جان بوجھ کر سستا رکھا اور کرنسی فکس کرنے کیلئے ڈالر جھونکے۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ یوٹیلٹی اسٹورز پر آٹا ، دال ، چینی ، گھی اور چاول کم قیمت پر مل رہے ہیں ، رمضان میں 19 اشیا کی قیمتیں کم ہوں گی ، یوٹیلٹی اسٹورز سے 50 لاکھ افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں ، حکومت نے یہ تعداد ایک کروڑ کرنے کی ہدایت کردی ہے ، اس وقت 4 ہزار یوٹلٹی اسٹور ہیں حکومت چاہتی ہے مزید 2 ہزار یوٹلٹی اسٹور کھولے جائیں۔ کم آمدنی والے افراد کیلئے راشن کارڈ جاری کئے جائیں گے اور یہ لوگ یوٹیلٹی اسٹور سے نہایت کم قیمت پر سامان لے سکیں گے۔ حفیظ شیخ نے 30 ہزار ارب روپے کے قرض اور توانائی سیکٹر کے معاملات کو ملکی مسائل کی جڑ قرار دیا ، انھوں نے کہا کہ 72 سال میں کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کرسکا ، گروتھ کی رفتار ہمیشہ تین چار سال چل سکی، ہمیں سوچنا ہے کہ گروتھ ریٹ برقرار کیوں نہیں رہ رہتی۔

ٹرینڈنگ

مینو