یورپ کے اکثرملکوں میں ہو کا عالم

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد 5 ہزار 8 سو سے زیادہ ہوگئی ہے، فرانس اور اسپین میں جزوی لاک ڈاون کا اعلان کردیا گیا ہے۔

فرانس میں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد 90 سے زائد ہوچکی ہے، اب ایسے تمام مقامات عوام کیلئے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو لازمی نہیں۔

فرانس میں نئے احکامات کے بعد ریسٹورنٹس ، کیفے ، سنیما اور نائٹ کلب نہیں کھل سکیں گے، مذہبی مقامات کھلے رہیں گے لیکن اجتماعات منسوخ کئے جائیں گے۔

اسپین میں 60 سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں اور مجموعی تعداد 195 ہوچکی ہے ، ملک میں 15 دن کے جزوی لاک ڈاون کا اعلان کیا گیا ہے، تمام دکانیں بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے البتہ بنیادی ضرورت کی اشیا بیچنے کی اجازت ہوگی۔

اسپین میں 1975 کے بعد دوسری بار ایمرجنسی لگائی گئی ہے، اب کورونا کا پھیلاو روکنے کیلئے ٹرین سے مختصر فاصلے کا سفر کم کیا جائے گا، کاروبار اور ملازمین کی مدد کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔

اٹلی میں مکمل لاک ڈاون کے باوجود ہلاکتیں نہیں رک سکیں، 1440 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور پورے ملک میں خوف کا عالم ہے۔ کھلی فضا کے عادی افراد بالکونیوں میں کھڑے ہو کر دل بہلانے پر مجبور ہیں۔

جرمنی میں 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن کورونا کیسز کی تعداد پونے 5 ہزار ہوچکی ہے۔ برلن میں 50 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی لگادی گئی ہے، بار ، سنیما ، کلب اور جم بند کردیئے گئے ہیں۔

برطانیہ میں 24 گھنٹے کے دوران ہلاک افراد کی تعداد دوگنا ہوئی ہے اور ملک میں ابتک 20 سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔ اٹلی اور دیگر ممالک کی صورتحال پر نظر رکھنے والے طبی ماہرین حکومت سے سخت ترین اقدامات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

امریکا میں کورونا ابتک 55 افراد کی جان لے چکا ہے اور مریضوں کی تعداد ڈھائی ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

ایران میں 610 ، عراق میں 10 ، نیدر لینڈ میں 12 اور جنوبی کوریا میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں ، چین میں یہ 3189 ہوگئی ہے۔ ڈنماک میں پہلی ہلاکت کے بعد افراتفری کا عالم ہے ، ملک میں سوا 8 سو کیسز بھی رپورٹ ہوچکے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو