فوجیوں کی واپسی معاہدے پر عمل سے مشروط ہے، امریکا

امریکا اور طالبان نے 18 سال جنگ کے بعد تاریخی امن معاہدے پر دستخط کردیئے ، معاہدے کے تحت امریکا اور نیٹو افواج 14 ماہ میں افغانستان سے انخلا کی پابندی ہیں جبکہ افغان سرزمین امریکا اور اتحادی ممالک کے خلاف استعمال نہیں کی جاسکے گی۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر اور امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے معاہدے پر دستخط کئے، اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 50 ممالک کے نمائندے موجود تھے۔

امن معاہدے کے تحت اتحادی افواج 14 ماہ میں افغانستان سے انخلاء مکمل کریں گی، امریکا پہلے 135 دنوں میں فوجیوں کی تعداد کم کرکے 8 ہزار 600 کردے گا جبکہ دیگر اتحادی ممالک بھی فوجیوں کی تعداد کم کریں گے۔

معاہدے کے تحت اتحادی فوجیوں کی تعداد میں کمی طالبان کی جانب سے امن معاہدے پر عمل سے مشروط ہوگی۔

افغانستان میں القاعدہ اور داعش سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں پر پابندی ہوگی، فریقین جنگ بندی پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے، افغان سرزمین امریکا اور اتحادی ممالک پر حملے کیلئے استعمال نہیں کی جائے گی۔ معاہدے کے تحت 10 مارچ تک 5 ہزار طالبان قیدیوں اور ایک ہزار افغان سیکیورٹی اہلکاروں کا تبادلہ ہوگا، اس کے ساتھ ہی افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے مذاکرات کی میزبانی پر قطر کا شکریہ ادا کیا، انھوں نے تسلیم کیا کہ افغانستان میں حالات بہتر ہوئے ہیں اور آج کا افغانستان 2001 کے افغانستان سے مختلف ہے ، مائیک پومپیو نے معاہدے کو امن کی فتح قرار دیا اور بتایا کہ امریکا معاہدے کی پاسداری کیلئے طالبان کی کوششوں پر گہری نظر رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان شہری ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

ملا عبدالغنی برادر نے مذاکرات میں سہولت کاری پر پاکستان ، چین ، ایران اور دیگر ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ طالبان معاہدے کی پاسداری کیلئے پرعزم ہیں، انھوں نے تمام افغان گروپوں سے اسلامی نظام نافذ کرنے کیلئے متحد ہونے کی اپیل کی اور بتایا کہ طالبان تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو