فیشن کا طریقہ جنسی زیادتی کے مترادف

دنیا کے نامور فیشن ڈیزائنرز میں سے ایک جورجو ارمانی نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کی فیشن انڈسٹری عورتوں کو نیم برہنہ کپڑے پہننے کے ہیجان میں مبتلا کررہی ہے جو دراصل جنسی زیادتی کرنے کے مترادف ہے۔

85 برس کے اطالوی ڈیزائنر نے کہا کہ عورتوں سے جنسی زیادتی کے کئی طریقے ہیں اور ان میں سے ایک نیم برہنہ انداز میں خواتین کو اشتہارات میں پیش کرنا بھی ہے۔

ارمانی ہمیشہ ہی سے جاذب نظر ، عمدہ مگر پروقار لباس تیار کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں ، میلان فیشن ویک میں پیش کئے گئے ان کے ملبوسات اس کی واضح مثال ہیں۔

ارمانی نے کہا کہ وہ جو سوچتے ہیں اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اگر آپ کسی عورت کو تہہ خانے میں دھکیل دیں اور اس پر زور دیں کہ وہ کسی خاص انداز میں کپڑے پہنے تو یہ دونوں باتیں جنسی زیادتی کے زمرے میں آتی ہیں۔

ایک قدم آگے بڑھ کر ارمانی نے یہ بھی کہا کہ اگر نیم برہنہ لباس میں ماڈل کا اشتہار کسی سڑک پر کسی دوسری خاتون کو نظر آئے اور دیکھنے والی بھی وہی لباس پہننا یا اس ماڈل جیسا بننا چاہے تو یہ اس عورت کے ساتھ بھی جنسی زیادتی ہی کی ایک قسم ہے۔

میلان فیشن ویک میں ارمانی کے ملبوسات کی نمائش کی گئی تھی جسے لوگوں نے بے حد سراہا تھا ، اب تازہ بیان کے بعد خواتین کو عریاں لباس پہننے کی طرف اکسانے والی کئی شخصیات نے اپنی توپوں کا رخ ارمانی کی جانب کردیا ہے۔

ارمانی نے اپنا فیشن لیبل 1975 میں لانچ کیا تھا اور انہیں اطالوی فیشن انڈسٹری کا گاڈفادر تصور کیا جاتا ہے۔

2018 میں ایک سروے کے مطابق خواتین ماڈلز میں سے نصف نے تسلیم کیا تھا کہ انہیں فیشن انڈسٹری میں جنسی تفریق کا سامنا ہے۔

ارمانی نے کہا کہ وہ شارٹ اور لانگ دونوں قسم کے اسکرٹس تیار کرتے ہیں ، جسم پر چپکی ٹراوزر بھی بناتے ہیں اور خواتین کو موقع دیتے ہیں کہ وہ آزادانہ فیصلہ کرسکیں کہ کس طرح مہذب نظرآنا ہے۔

ارمانی نے کہا کہ انہیں اگر کسی لفظ سے چڑ ہے تو وہ ٹرینڈ ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ وہ کپڑے تیار کریں جو آج کی عورت پہن سکے۔ کوئی ٹرینڈ نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایمپوریو ارمانی پہننے والی خواتین مضبوط اعصاب کی مالک اور اپنے فیصلوں میں جرات مند نظر آتی ہیں۔ نوجوان لڑکی ایسا دکھتی ہے کہ لوگوں سوچنے اور حیران ہونے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو