لاک ڈاؤن نرم کرنے کی تجویز

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ارکان کی اکثریت نے لاک ڈاون نرم کرنے کا مشورہ دے دیاہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں کابینہ ارکان نے پابندیاں نرم کرنے کی تجویز دی، رہنماوں کا کہنا تھا کہ ایس او پیز کے تحت مرحلہ وار کاروبار کھولا جانا چاہئے ، وفاقی وزرا نے ٹرین سروس بحال کرنے کی بھی حمایت کی۔

وزیراطلاعات شبلی فراز نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں اجلاس ہوگا ، اس میں تمام وزرائے اعلی شرکت کریں گے اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا ، وزرائے اعلی سے لاک ڈاون نرم کرنے کے معاملے پر رائے لی جائے گی۔

شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے وزیراطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر قانون کے سامنے پیش ہونے کو بے عزتی سمجھتے ہیں ، وہ قانون کو چیلنج کر رہے ہیں ، انھوں نے قومی دولت لوٹی ، اثاثے بیرون ملک منتقل کئے ، یہی وجہ ہے کہ ہیلتھ سسٹم تباہ ہوگیا ، نوازشریف آرام سے لندن بیٹھے ہیں ، شہباز شریف کو کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر باتیں کرنی تھیں تو یہ کام وہ لندن سے بھی کرسکتے تھے۔

شبلی فراز نے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کے الزامات کا بھی جواب دیا اور کہا سوچیں پیپلزپارٹی ایک صوبے تک کیوں محدود ہوچکی ہے ، کہیں ایسا نہ ہو پارٹی صرف لاڑکانہ تک محدود ہوجائے۔

ٹرینڈنگ

مینو