ہدایت کار نے نیا تنازع کھڑا کردیا

مصنف اور ہدایت کار خلیل الرحمان قمر نے پھر نیا تنازع کھڑا کردیا، سماجی کارکن ماروی سرمد کے خلاف ایسی زبان استعمال کی کہ سننے والوں نے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے، ٹی وی شو کے دوران کی گئی اس گفتگو پر سوشل میڈیا صارفین شدید تنقید کر رہے ہیں۔

خلیل الرحمان قمر نے نیو ٹی وی کے پروگرام میں سماجی کارکن ماروی سرمد کو نہ صرف گھٹیا کہا بلکہ جو منہ میں آیا کہتے چلے گئے۔

ہیومن رائٹس کمیشن نے خلیل الرحمان قمر سے سب کے سامنے غیر مشروط معافی مانگنے اور پیمرا سے ٹاک شو کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے خلیل الرحمان کی مذمت کرتےہوئے رویئے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

سینیٹر شیری رحمان نے خلیل الرحمان کے بائیکاٹ اور شو کی اینکر کے معافی مانگنے تک نیو ٹی وی کے کسی پروگرام میں نہ جانے کا اعلان کردیا۔

عامر لیاقت حسین نے خلیل الرحمان قمر پر تنقید کی اور کہا کہ تم نے مردوں کے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں۔

معروف صحافی فہد حسین نے خلیل الرحمان قمر کو بیمار شخص قرار دیا اور کہا کہ انھیں ٹی وی پر جگہ نہیں دینی چاہئے۔

صحافی ثنا بچہ کا کہنا تھا کہ خلیل الرحمان کی مذمت کافی نہیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ انھیں کس نے یہاں تک پہنچایا۔

کچھ لوگوں نے خلیل الرحمان قمر پر تنقید کی تو کچھ ان کی حمایت میں بھی سامنے آئے، لوگوں نے میرا جسم میری مرضی کے بدلے میری زبان میری مرضی کی بات چھیڑ دی۔

سوشل میڈیا پر خلیل الرحمان کے حامی اور مخالفین ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور بحث زور و شور سے جاری ہے۔ البتہ نجی چینل کے نیوز ڈائریکٹر اور سینیئر صحافی نصر اللہ ملک نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ماروی سرمد سے معذرت کی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو