مذہبی آزادی یقینی بنانا ریاست کی ذمے داری ہے، حکومت

جرمنی میں گرفتار دائیں بازو کے انتہا پسند نیوزی لینڈ حملوں کی طرز پر مساجد میں دہشت گردی کرنا چاہتے تھے۔

حکام نے بتایا کہ گرفتار 12 افراد سے تحقیقات کے نتیجے میں پتہ چلا ہے کہ انھوں نے بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کررکھی تھی، میڈیا رپورٹس کے مطابق دہشت گرد کئی مساجد پر دوران نماز ایک ساتھ حملے کرنا چاہتے تھے ، یہ حملے گزشتہ سال کرائسٹ چرچ میں کئے گئے حملوں کی طرز پر کئے جانے تھے۔

جرمنی کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے اس بات پر شدید حیرت کا اظہار کیا کہ اس قدر کم وقت میں یہاں انتہا پسندوں کے ایسے سیلز قائم ہو گئے ہیں۔ چانسلر اینگلا مرکل کے ترجمان اسٹیفن سی برٹ نے کہا کہ مذہبی آزادی یقینی بنانا ریاست کی ذمے داری ہے چاہے پیروکاروں کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دائیں بازو کا گروپ نیم خود کار ہتھیاروں سے حملے کرنا چاہتا تھا، نیوزی لینڈ میں دہشتگردی کی ایسی واردات 2 مساجد میں کی گئی تھی۔ ان حملوں میں 51 نمازی شہید ہوئے تھے۔ جرمن حکام کو ان حملوں کی خفیہ اطلاع ایک ایسے شخص نے دی تھی جو دائیں بازو کے اس گروپ کا حصہ بنا ہوا تھا ، اس کے بعد سے انٹیلی جنس حکام گروپ لیڈر پر نظر رکھے ہوئے تھے ، دائیں بازو کے اس دہشت گرد لیڈر کی عمر 53 برس ہے اور اس کا تعلق آگسبرگ سے ہے ، دہشتگرد کا نام صرف ورنر ایس ظاہر کیا گیا ہے۔

جمعہ کو 12 افراد گرفتار کئے گئے تھے ،ان میں سے 4 نے گروپ بنایا تھا جبکہ دیگر 8 نے ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ تمام دہشت گرد جرمن شہری ہیں اور ان میں 50 برس کا ایک پولیس افسر تھارسٹن ایس بھی شامل ہے جو ماضی میں دائیں بازو سے تعلق پر معطل بھی رہ چکا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو