وفاق اور سندھ آمنے سامنے، کس کا کیا موقف ؟

وفاق اور سندھ آمنے سامنے آگئے، وزیراعلی مراد علی شاہ نے لاک ڈاؤن بڑھانے کی تجویز دی اور رقوم تقسیم کرنے کیلئے لوگوں کو جمع کرنے کی مخالفت کی تو معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے وزیراعلی پر قومی یکجہتی پارہ پارہ کرنے کا الزام لگادیا۔

مراد علی شاہ نے نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی اجلاس سے پہلے پریس کانفرنس کی ، انھوں نے وزیراعظم کو لاک ڈاؤن میں مزید 2 ہفتے توسیع کی تجویز دی اور کہا کہ وفاقی حکومت نے رقوم تقسیم کرنے کیلئے لوگوں کو جمع کرنا ہے تو لاک ڈاؤن ختم کردے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کا واقعہ ہوا تو سب متحد ہوگئے تھے، کیا ہم ایک پیج پر آنے کیلئے لاشیں دیکھنے کا انتظار کر رہے ہیں، معیشت کو دوبارہ کھڑا کیا جاسکتا ہے مگر انسان کو دوبارہ زندگی نہیں دی جاسکتی ، سندھ حکومت نے سوچ سمجھ کر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا، کورونا سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایکشن لو اور وائرس سے آگے رہو۔

وزیراعلی سندھ نے وفاق اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے کہا کہ جتنی گالیاں دینی ہیں دے لیں لیکن متحد ہوجائیں اور درست سمت اختیار کریں، کہا جاتا ہے سندھ حکومت نے راشن بانٹا اور کسی کو خبر بھی نہ ہوئی، مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے خود وزرا کو روکا ہے کہ دکھاوے کیلئے کام نہ کریں۔

بعد میں معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان میڈیا پر آئیں اور وزیراعلی سندھ پر قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کا الزام لگادیا ، انھوں نے کہا کہ مراد علی شاہ نے نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی اجلاس سے پہلے میڈیا کے ذریعے تحفظات پہنچائے، ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کیا گیا، اگر آپ کو فیصلوں پر تحفظات ہیں تو اجلاس میں بات کرتے. اس وقت الزام تراشی سے مسئلہ گھمبیر ہوگا، فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ وزیراعلی سندھ نے چند انڈسٹریز کو کھولنے کیلئے وقت مانگا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو