مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کے غنڈوں نے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل لی ، فسادات میں 38افراد کو قتل کردیا تو مختلف علاقوں میں کرفیو لگادیا گیا۔

فورسز کا نمائشی گشت اور دفعہ 144 کا نفاذ بھی نئی دہلی میں کشیدگی کم نہ کرسکا، گوکل پوری میں پوری مارکیٹ پھونک دی گئی۔

نام دیکھ کر مسلمانوں کی دکانیں جلائی گئیں اور کاروباری مراکز پر حملے کئے گئے۔

دن دیہاڑے دکانوں کے شٹر توڑ کر لوٹ مار کی گئی اور پولیس کی موجودگی میں گولیاں چلتی رہیں۔

مسلمانوں کے گھروں پر حملے کئے گئے اور ایک نہیں کئی مساجد اور مزارات کو آگ لگادی گئی۔

آرایس ایس کے غنڈے سرعام قتل و غارت گرے کے نعرے لگاتے رہے اور فورسز تماشا دیکھتی رہیں۔

سیکیورٹی اہلکار جگہ جگہ انتہا پسندوں کی سرپرستی کرتے نظر آئے اور مسلمانوں پر حملے کیلئے اکساتے رہے۔

خواتین میڈیا پر آئیں تو بھارتی پولیس کی دہشت گردی بے نقاب کردی۔

مختلف علاقوں سے مسلمانوں کو ہجرت کرنی پڑی ہے اور لوگ جلدی میں صرف ضروری سامان اٹھا کر گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

مصطفی آباد میں صورتحال سب سے زیادہ خراب رہی جہاں جلاو گھیراو اور دنگا فسادات میں مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

ٹرمپ کے دورہ بھارت میں مسلم کش فسادات سے جگ ہنسائی ہوئی تو مودی سرکار نے نزلہ میڈیا پر گرادیا۔قومی مفاد کے نام پر حکم دیا گیا ہے کہ ایسی کوئی خبر یا ویڈیو نشر نہ کی جائے جس سے لا اینڈ آرڈر مزید بگڑنے کا خدشہ ہو۔

یاد رہے کہ خون خرابہ شہریت کے متنازع قانون کی مخالفت میں پرامن احتجاج کرتے افراد پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا ، حکام حقیقی صورتحال چھپاتے رہے اور دنیا کو سوشل میڈیا کے ذریعے حقائق کا علم ہوا ، اب ڈریکونین حکم نامے میں واضح حکم دیا گیا ہے کہ حملہ آوروں کو بھی نہ دکھایا جائے۔

ٹرینڈنگ

مینو