مسلمانوں کی نقل مکانی، تعلیمی ادارے بند

بھارتی دارالحکومت دہلی میں مسلمانوں کی کئی بستیاں جلادی گئیں، مساجد میں توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگائی گئی ، قتل کئے گئے افراد کی تعداد 20 ہوچکی ہے جبکہ زخمیوں کا شمار ہی ممکن نہیں ، مسلمان مختلف علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ تمام اسکول بند رکھنے اور امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔

دہلی میں مسلمانوں کی بڑی آبادی والے علاقوں میں مصطفی آباد بھی شامل ہے ، یہ پوری کی پوری بستی جلادی گئی۔

انتہا پسند گلی گلی نعرے لگاتے پھر رہے ہیں اور خوفزدہ مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

آر ایس ایس کے غنڈے دروازے توڑ کر گھروں میں داخل ہوئے اور مسلم خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔

انتہا پسند ہندو تنظیموں کے کارکن اشوک نگر کی مسجد میں گھسے اور مینار پر چڑھ گئے ، نیچے کھڑے حامی مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے فائرنگ کرتے رہے۔

دہلی کی جامع مسجد میں گھس کر آگ لگائی گئی ، سامان اٹھا کر باہر پھینکا گیا، اور ایک مزار بھی جلادیا گیا۔

انتہا پسندوں نے پولیس کی مدد سے کئی علاقوں میں مسلم آبادیوں کو گھیرا تو خوفزدہ لوگ سوشل میڈیا پر مدد کی اپیل کرتے رہے۔

انتہا پسندوں کی حامی پولیس نے خواتین کو بھی نہ چھوڑا اور جو نظر آیا اس کو لہولہان کردیا۔ انہی میں حاملہ روبینہ بانو بھی ہیں جو جان بچانے میں کامیاب ہوگئیں۔

کئی علاقوں میں مسلم نوجوانوں کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ زخمیوں کو اسپتال لے جانے کے بجائے بھارتی ترانا پڑھنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔ گالیوں اور خون کے باعث یہ ویڈیوز دیکھانا ممکن نہیں۔

دہلی میں اگرچہ سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھانے کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن غندہ راج برقرار ہے، پولیس غائب ہے اور آر ایس ایس کے ڈنڈا بردار کارکن من مانی کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ خون خرابہ شہریت کے متنازع قانون کی مخالفت میں پرامن احتجاج کرتے افراد پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا ، حکام حقیقی صورتحال چھپاتے رہے اور دنیا کو سوشل میڈیا کے ذریعے حقائق کا علم ہوا ، اس کے بعد کئی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کی گئی اور شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آئیں تصاویر کے ذریعے حالات کا اندازہ لگاتے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو