مصر:دلہن کی حنوط لاش زیورات سمیت دریافت

مصر میں کھدائی کے دوران کمسن دلہن کی ہزاروں برس پرانی ممی یعنی حنوط شدہ لاش دریافت کرلی گئی ، قبر سے دلہن کے زیورات بھی ملے ہیں جو قدیم مصری تہذیب کو اجاگر کر رہے ہیں۔

ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ کمسن دلہن کی ممی 3 ہزار 6 سو برس پرانی ہے۔ جو قیمتی زیورات اس قبر سے ملے ہیں ان کے بار ے میں خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ لڑکی کو شادی کے موقع پر دیئے گئے تھے مگر ناگہانی موت پر ساتھ ہی دفن کردیئے گئے۔

ممی مصر کے علاقے الاقصر میں واقع پہاڑی پر موجود قبرستان سے نکالی گئی۔ اسے دریافت کرنے والے ہسپانوی ماہرین کے مطابق لاش انتہائی غیر معمولی حالت میں ملی اور لکڑی کے تابوت کے  اندر کچھ سفید پینٹ بھی واضح ہے۔

جس مقام سے یہ ممی برآمد ہوئی وہ قدیم مصر کا شہر تھیبس ہے جو اس دور کا دارالحکومت تھا۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لڑکی کی عمر 15 سے 16 برس تھی اور اس کا قد 5 فٹ ایک انچ تھا۔  بعض میڈیا ذرائع کا دعوی ہے کہ لکڑی کے تابوت میں عروسی جوڑے بھی برآمد ہوئے ہیں۔

لڑکی دونوں کانوں میں بندے پہنے ہوئے تھی اور دونوں ہاتھوں سے ایک ایک انگوٹھی بھی ملی۔

کچھ زیورات لڑکی کے سینے پر رکھ ہوئے ملے۔ ان میں سیرامک کے دانوں اور 75 قیمتی پتھروں سے بنے گلے کے 4 ہار بھی شامل ہیں۔

اسی علاقے سے کئی اور لڑکیوں اور بچوں کی قبروں کے آثار بھی ملے ہیں۔

مصر کی یہ تہذیب 5 ہزار برس پرانی ہے جب مصری باشندوں نے دریائے نیل کے کنارے قصبوں کی صورت میں آباد ہونا شروع کیا تھا۔

مصر کی یہ تہذیب 3 ہزار برس تک پھلی پھولی ، یہ افراد فن تعمیر اور کھیتی باڑی میں انتہائی غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل تھے۔ انہوں نے ایسے شہر آباد کئے اور اہرام بنائے جو ہزاروں برس بعد بھی شاہکار تصور کئے جاتے ہیں۔

اس دور کے بادشاہ کو فرعون کہا جاتا تھا۔ وہ مذہب کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ 2 ہزار سے زائد دیوتاؤں کیلئے قربانیاں دی جاتی تھیں اور انہیں مرنے کے بعد نئی زندگی پر یقین تھا۔ اسی لئے اہم افراد کی میتوں کو حنوط کرکے محفوظ کرلیا جاتا تھا۔

حکمراں اپنے مقبروں کیلئے اہرام بنایا کرتے تھے جو اس دور میں دنیا کی بلند ترین عمارتیں ہوا کرتی تھیں۔

شمسی کیلینڈر قدیم مصریوں ہی کی دین ہے اور دنیا کے اولین ترین تحریری نظاموں میں سے ایک ہائیرگلف بھی ان ہی کا مرہون منت ہے۔

یہ تہذیب فراعین مصر کی دیگر شہنشاوں کے ساتھ جنگوں اور 100 برس سے زائد عرصے تک قحط سالی کے باعث ختم ہوگئی مگر اس کے آثار ابتک محفوظ ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو