نئی دہلی: گندے نالے مسلمانوں کی لاشیں اگلنے لگے

نئی دہلی میں فسادات تھمے تو سب سے بڑی جمہوریت کا اصل چہرہ سامنے آنے لگا ، بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے تلواروں سے حملہ کرکے کئی مسلمانوں کی جان لی تو کئی کو قتل کرکے لاشیں گندے نالے میں پھینک دی۔ مزید 4 لاشیں ملنے کے بعد مقتولین کی تعداد 46 ہوچکی ہے، صرف مردوں پر ہی حملے نہیں ہوئے خواتین پر بھی تیزاب پھینکا گیا۔

نئی دہلی کے اس بھرم پوری نالے سے ان 2 بھائیوں کی لاشیں ملی ہیں جن کے والدین نے فسادات کے باعث انھیں دادی کے گھر بھیج دیا تھا۔

30 برس کے عامر خان اور 19 سال کے ہاشم علی مصطفی آباد کے رہائشی تھے اور دونوں بھائیوں کو آر ایس ایس کے غنڈوں نے قتل کیا۔

بابو خان بڑھاپے میں کڑیل جوان بیٹوں کی لاشیں لے کر گھر پہنچے تو وہاں پہلے ہی کہرام مچا تھا۔

ماں مقتول بیٹوں کے چہرے دیکھنے کی ہمت نہ کرسکی اور دکھیاری موبائل فون پر تصاویر دیکھ کر روتی رہی۔

دونوں بھائیوں کو سپرد خاک کردیا گیا لیکن بابو خان کہتے ہیں یادیں دفن کرنا ممکن نہیں۔

گھروں کو آگ لگتا دیکھنے والی خاتون نے مشکل وقت کیسے گزارا آپ نے سنا ، خاتون کو گھروں سے زیادہ مسجد کی شہادت کا غم ہے۔

نئی دہلی میں کسی ایک مسجد پر حملہ نہیں کیا گیا دہشت گردوں کو جہاں موقع ملا مساجد جلادی گئیں۔ جہاں مسلم مرد اکیلا نظر آیا مارا گیا اور جہاں کوئی مسلم خاتون نظر آئی تیزاب پھینک دیا گیا۔ متاثرین نے این ڈی ٹی وی کو پوری روداد سنادی۔

مسلمانوں کے سیکڑوں گھروں پر حملے کئے گئے اور تباہ حال افراد کیلئے خیمہ بستی آباد کرنا پڑی ہے۔

حملوں کے کئی زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور کئی عمر بھر کے لئے معذور ہوچکے ہیں۔ آئیں اس نوجوان کی روداد سنتے ہیں جس پر تشدد کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ شہریت کے متنازع قانون کی مخالفت میں احتجاج کرنے والے پرامن افراد پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے حملہ کیا تھا، اس کے بعد مسلم کش فسادات شروع ہوئے اور قتل و غارت گری میں پولیس نے بھی دہشت گردوں کا ساتھ دیا، اب حکومت نے دفعہ 144 نافذ کی ہے تاکہ کالے قانون کے خلاف احتجاج روکا جاسکے۔

ٹرینڈنگ

مینو