نمازوں کے اجتماعات محدود، علما کی رائے

وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کے باعث پنجگانہ نماز  اور نماز جمعہ محدود کرنے کا اعلان کیا ہے، شیخ الحدیث مفتی تقی عثمانی کہتے ہیں حکومتی فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے گا، سندھ حکومت نے مساجد کے منتظمین کو نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے بارے میں اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔

وزیرمذہبی امور نور الحق قادری کے مطابق علمائے کرام نے ویڈیو کانفرنس میں فیصلوں کا اختیار صدر عارف علوی کو دیا ہے، اس دوران باجماعت نماز اور نماز جمعہ محدود کرنے کافیصلہ کیا گیا۔

کانفرنس میں کئے گئے فیصلے کے مطابق مساجد بند نہیں کی جائیں گی ، پنج وقتہ باجماعت نماز اور نماز جمعہ میں مسجد کی انتظامیہ اور محدود نمازی شریک ہوا کریں گے۔

مفتی تقی عثمان نے بتایا کہ وہ مساجد کی تالہ بندی کے خلاف ہیں ، بیماری کے باعث سب کو توبہ کرنے کی ضرورت ہے، حکومت نے باجماعت نماز کیلئے 3 سے 5 افراد کی اجازت دی ہے، یہ ان کی رائے کے خلاف ہے لیکن وہ حکومتی فیصلے کی پابندی  کریں گے۔ مساجد میں کم حاضری سے گناہ نہیں، عوام حکومتی فیصلے پر عملدرآمد کریں۔

رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان کہتے ہیں ویڈیو کانفرنس میں جامعہ الازہر کے فتوے پر اتفاق نہیں ہوا۔ مساجد میں جمعہ اجتماعات پر کوئی پابندی نہیں، خطبات اور اجتماعات جاری رہیں گے.

سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے تمام مکاتب فکر کے علما اور طبی ماہرین سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ مساجد میں 5 افراد باجماعت نماز پڑھ سکیں گے، عوام کو باجماعت نماز کی اجازت نہیں ہوگی۔

یار رہے کہ سعودی عرب ، ترکی اور ایران سمیت مخلتف اسلامی ممالک مساجد میں نماز ادا کرنے پر پابندی لگاچکے ہیں۔

دوسری طرف جامعۃ الازہر مصر کے علما کی سپریم کونسل نے فتوے میں کہا ہے کہ کورونا وائرس تیزی سے پھیلتا ہے ، زندگی بچانا اسلامی قوانین کے عظیم مقاصد میں سے ایک ہے، انسانی زندگی بچانے کیلئے مسلمان ملک میں حکومت کو باجماعت نماز اور نماز جمعہ پر پابندی لگانے کی اجازت ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو