نیویارک:پاکستانی تجہیز و تکفین مرکز کا احوال

کورونا سے امریکا کی ریاست نیویارک میں بدترین تباہی ہوئی ہے۔ ریاست میں تقریبا 25 ہزار اموات ہوچکی ہیں اور ان میں پاکستانیوں سمیت جنوب ایشیائی باشندوں کی بھی قابل ذکر تعداد شامل ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق بروکلین میں واقع الریان مسلم تجہیز و تکفین مرکز میں روزانہ کم سے کم 15 افراد کی میتیں لائی جاتی ہیں ، ان میں سے کئی کا انتقال کورونا کے سبب ہوتا ہے۔ سوگوار افراد وہاں نماز جنازہ ادا کر کے میتوں کو آبائی وطن یا مختلف ریاستوں میں تدفین کیلئے بھیج دیتے ہیں۔

الریان سینٹر کے مالک پاکستانی امریکن ظفر اقبال ہیں جو پہلے ٹیکسی چلایا کرتے تھے اور 3 برس قبل انہوں نے اپنے بہنوئی امتیاز احمد کے ساتھ مل کر کونی آئی لینڈ ایونیو پر یہ مرکز کھولا تھا ، اس مرکز کے ایک جانب مسجد واقع ہے۔

امتیاز احمد کا کہنا ہے کہ کورونا وبا سے پہلے مہینے میں 20 سے 30 میتیں لائی جاتی تھیں تاہم اب اموات اس قدر زیادہ ہو رہی ہیں کہ انتظامات مشکل ہوگئے ہیں۔

یہاں لائی جانے والی زیادہ تر میتیں پاکستانیوں اور بنگلادیشی شہریوں کی ہوتی ہیں ، ان میں سے بعض کے لواحقین بھی امریکا میں نہیں ہوتے اور نماز جنازہ میں علاقے کے لوگ شامل ہوجاتے ہیں۔

امتیاز احمد نے بتایا کہ پچھلے 2 ماہ کے دوران انہوں نے 200 سے زائد افراد کی تجہیز و تکفین کے انتظامات کئے۔ ان میں سے کئی کا انتقال کورونا وائرس کے سبب ہوا تھا۔

امتیاز احمد کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والی فارماسسٹ فرزانہ احسن اور گرین ٹیکسی ڈرائیور اورنگزیب اقبال کی میتیں پاکستان روانہ کی جا چکی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پچھلے منگل کو 14 افراد کی نماز جنازہ کے انتطامات کئے گئے تھے ، ان میں سے 7 میتیں پاکستان بھیجی گئیں اور دیگر کی نیوجرسی اور لانگ آئی لینڈ میں تدفین کردی گئی تھی۔

ٹرینڈنگ

مینو