نیویارک: مردہ خانے کے ملازم نے کیا دیکھا ؟

نیویارک میں ریفریجریٹڈ مردہ خانہ کے ٹرک ڈرائیور نے دل دہلا دینے والے انکشاف کرکے امریکا میں کورونا سے اموات کی درد ناک تصویر کشی کردی ہے۔ یہ داستان ایسی ہے کہ سننے اور پڑھنے کیلئے دل پر پتھر رکھنا ضروری ہے۔

نیویارک میں انسان ہی نہیں انسانیت بھی دم توڑ رہی ہے۔ مردہ خانے کے سابق ٹرک ڈرائیور ایرک فریمپٹن نے ریاست کی ایک ویب سائٹ کیلئے لکھے گئے مضمون میں ہولناک داستان بیان کردی ، ایرک نے بتایا کہ وہ پینٹنگز کے فریم بنانے والے ادارے سے وابستہ تھا لیکن لاک ڈاون کے سبب بے روزگار ہوگیا، اسی دوران مردہ خانے میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تو فورا کام کی حامی بھر لی لیکن وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اسے کیا عذاب جھیلنا پڑے گا۔

ایرک نے لرزہ خیز انکشاف کیا کہ جس مردہ خانے میں وہ کام کرتا تھا وہاں باڈی بیگز کم پڑ گئے تھے۔ میتوں کو پتلی سی پلاسٹک شیٹ میں لپیٹا جانے لگا تھا۔ جب پلاسٹک شیٹس ختم ہوگئیں تو میتوں کو اسپتال کی ان بیڈ شیٹس میں لپیٹنا پڑا جن پر مریضوں کا انتقال ہوا تھا۔ مریضوں کے جسم سے نکلنے والے خون اور  فضلے کی مقدار ٹنوں میں جا پہنچی تھی جسے ٹھکانے نہیں لگایا جاسکا اور بعض اوقات فرش ان سے اٹا ہوا ہوتا تھا۔

ڈاکٹروں نے کئی افراد کے جسموں سے وینٹی لیٹرز کی ٹیوب تک نہیں نکالیں جس کے باعث جسم مکمل ڈھکنا مشکل ہوگیا تھا، تمام میتیوں کی شہادت والی انگلی پر صرف کوویڈین درج کیا جاتا تھا اور ٹریلر میں رکھی گئی میتوں پر واضح شناخت بھی درج نہیں کی جاتی تھی۔

ایرک کے مطابق میتیں اس قدر زیادہ تھیں کہ 50 سے 80 میتوں کو چند لمحوں میں ہٹانا پڑتا تھا ، ان کے ساتھ کیا سلوک کرنا پڑتا ہوگا یہ بتانے کیلئے اس کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

ایرک کے مطابق اسے دو تہوں والا حفاظتی لباس دیا جاتا تھا تاکہ وہ آلودہ مائع چیزوں سے محفوظ رہ سکے۔ اسے اسپتال گریڈ کے دو تہوں والا ماسک اور لامحدود دستانے پہننے پڑتے تھے۔

اس نے بتایا کہ ہر روز 75 ڈالر فی گھنٹہ کے حساب سے چیک دیدیا جاتا تھا کیونکہ مالکان ملازمین کے اگلے دن نہ آنے کے خطرے سے آگاہ تھے۔

ایرک کے مطابق اس نے اپنی بپتا فیس بک پر لکھی تھی جو اس قدر وائرل ہوئی کہ اسے نوکری سے نکال دیا گیا لیکن اسے کوئی غم نہیں۔ وہ ہر لمحے موت سے خوفزدہ ہے اور لگتا ہے کہ دہشت ناک یادیں زندگی بھر پیچھا کرتی رہیں گی۔

ٹرینڈنگ

مینو