یورپ میں صورتحال تشویشناک ، ویکسین کی فوری تیار مشکل

کورونا وائرس 76 ممالک میں پھیل چکا ہے اور 3131 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ، ایران میں 23 ارکان پارلیمنٹ بھی مرض میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ امریکا میں 6اموات کے بعد ہنگامی صورتحال ہے۔ برطانیہ نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ہنگامی پلان تیار کیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اگر کورونا وبا کی صورت پھیلا تو ورک فورس کا پانچواں حصہ بیماری میں مبتلا ہونے کے سبب کام پر نہیں آسکے گا۔

حکومت کے ایکشن پلان میں کہا گیا ہے کہ اگر وبا پھیلی تو پولیس معمولی جرائم نظر انداز کرسکے گی۔ ضرورت پڑنے پر فوج ایمرجنسی سروسز میں مدد کرے گی ، اسکولوں کی بندش، اجتماعات کے انعقاد میں کمی اور ملازمین کے گھروں سے کام کرنے کا آپشن بھی حکومتی پلان میں شامل ہے، کورونا سے متاثر نہ ہونے والے مریضوں کو اسپتالوں سے گھر بھیجا جاسکتا ہے جبکہ ریٹائرڈ ڈاکٹروں اور نرسوں کو بھی کام پر بلایا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم بورس جانسن نے بتایا کہ حکومت عوام کو محفوظ رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ انھوں نے کیسز کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا اور عوام کو گرم پانی اور صابن سے بار بار ہاتھ دھونے کا مشورہ دیا ، وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ معمول کے مطابق کام جاری رکھیں۔

برطانیہ میں ہیلتھ ورکر سمیت کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 41 ہوگئی ہے۔

یورپ میں بھی کورونا مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جرمنی میں مزید 23 مریض سامنے آنے کے بعد تعداد 188 ہوچکی ہے۔ اٹلی میں 52 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور مریض 2 ہزار سے زیادہ ہیں۔ فرانس میں 3 افراد زندگی کی بازی ہارے ہیں اور 191 بیمار ہیں۔ اسپین میں 124 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

امریکامیں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد 6 ہے اور تمام اموات ریاست واشنگٹن میں ہوئی ہیں۔ نیویارک ، رہوڈ آئی لینڈ اور فلوریڈا میں بھی  کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ فارما سیوٹیکل اور بائیوٹیک کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات کے دوران کورونا وائرس سے نمٹنے کے امریکی ماہر ڈاکٹر ٹونی سے الجھ پڑے۔ ڈاکٹر ٹونی نے کہا کہ کورونا وائرس ویکیسن کی تیاری میں ایک سال لگےگا۔ ٹرمپ بولے یہ چند ماہ میں تیار کی جائے تاہم ڈاکٹر نے واضح کیا کہ اتنی جلدی تیاری ممکن نہیں۔

کورونا سے جنوبی کوریا میں 28 اموات ہوئی ہیں، 851 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور تعداد 5186 ہوچکی ہے، جاپان میں 6 افراد ہلاک ہوئے اور مزید 9 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہاں مجموعی کیسز کی تعداد 283 ہوچکی ہے۔

ایران میں مزید 11 افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور تعداد 77 ہوچکی ہے، 23 ارکان پارلیمنٹ اور ایمرجنسی میڈیکل سروسز کے سربراہ بھی مریضوں میں شامل ہیں، رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای نے فوج کو وزارت صحت سے تعاون کا حکم دیا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو