وزیراعظم آئیں تو مجمع نہ لگائیں ، وزیراعلی

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے راشن کیلئے جاری کئے گئے 580 ملین روپے اور ڈھائی لاکھ روشن بیگ کی تقسیم کا آڈٹ کرانے کی پیشکش کردی۔

وزیراعلی سندھ نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وفاق اور کچھ صوبوں کا خیال تھا کہ پلمبر ، الیکٹریشن ، ٹیلرز اور ہیئر ڈریسر کی دکانیں کھلنی چاہئیں، ہم نے کہا کہ یہ نہیں کیا جاسکتا۔ لاک ڈاؤن نرم نہیں مزید سخت کیا گیا ہے۔

مراد علی شاہ نے نام لئے بغیر پی ٹی آئی رہنماوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ انھیں بہت سارے لوگوں کو لے کر علاقوں میں جانا اور پھر اپنی عزت خراب کرنے کا شوق نہیں، لوگ پوری فوج لے کر علاقوں میں پہنچ گئے ، زندگیاں بچانا سب سے اہم ہے۔ کسی کو لوگوں کی جانوں سے کھیلنے نہیں دیں گے، نیک نیتی سے کام کریں گے۔ انھوں نے ہاتھ جو کر کہا کہ خدارا اس وقت صرف زندگیوں کا سوچا جائے۔

وزیراعلی نے وزیراعظم سے بھی اپیل کی کہ وہ جب بھی سندھ آئیں تو ایس او پیز پر عمل کریں اور مجمع نہ لگائیں، مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کورونا سے لوگ مرتے دیکھے ہیں ان دنوں بھوک سے کسی کو مرتا نہیں دیکھا ، مسئلہ کوئی اور ہے ڈرایا کسی اور چیز سے جارہا ہے۔ یہ نہیں کہنا چاہئے کہ یہ شعبے کھول دیں ، ہمیں علاقے دیکھنے چاہیں ، اگر علاقے کلیئر ہوں تو وہاں ایس او پیز کے ساتھ سب کچھ کھول دیا جانا چاہئے۔ خدارا کھولنے کیلئے شعبے نہیں جغرافیہ دیکھیں۔

انھوں نے بتایا کہ صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی، ملازمین کو لانے کا انتظام فیکٹری مالکان کریں گے، ملازمین کی فہرست دینی پڑے گی، سینی ٹائزر رکھے جائیں گے ، سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھنا ہوگا ، ملازمین کا ٹمپریچر چیک کیا جائے گا، اگر ہمیں شک ہوا کہ مریض ہیں تو ملازمین کا ٹیسٹ کیا جائے گا اور اس ٹیسٹ کا معاوضہ مالکان دیں گے۔ عمارتوں کی تعمیر کیلئے مزدوروں اور سامان وغیرہ کی معلومات دینی ہوں گی۔

ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ جو 8 ارب کا کہہ رہے ہیں ان سے پوچھیں یہ ذکر کہاں سے آگیا ، ایمرجنسی فنڈ میں ابتک 3 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں ، 3 سو ملین انڈس اسپتال کو دیئے، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کو 10 کروڑ دیئے،  12 میں سے 3 ارب روپے کورونا ایمرجنسی فنڈ کیلئے جاری کئے ، ہر ایمرجنسی فنڈ میں ابتک 3 کروڑ 88 لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ سندھ چیف جسٹس کے سامنے موقف درست طریقے سے پیش ہیں کرسکا، امید ہے انھیں کنوینس کرلیا جائے گا، یونین کونسلز بند کرنے کا حکم غلط نہیں تھا ، حکومت نے محلے ہی سیل کرنے تھے۔

ٹرینڈنگ

مینو