کورونا: وزیراعظم بولڈ، ریلیف پیکج کا اعلان

کورونا سے متعلق حقائق پر مبنی سوالات پوچھ کر اور اسپتالوں کی اصل حالت دکھا کر صحافیوں نے وزیراعظم کو بھری پریس کانفرنس میں لاجواب کردیا، وزیراعظم ہر سوال پر کلین بولڈ ہوتے رہے۔ عمران خان کو ایسے صحافیوں کے بھی باونسرز کا سامنا کرنا پڑا جو ان کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ جب خریدار نہ رہا تو سرکار نے پیٹرول اور ڈیزل سستا کرنے سمیت ریلیف پیکج کا اعلان کیا جسے حاتم طائی  کی قبر پر لات قرار دے دیا جارہا ہے۔

وزیراعظم نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں افراتفری کا تاثر دیا جارہا ہے، کورونا سے خوفزدہ ہو کر غلط فیصلے کرنے کا خطرہ ہے۔ لاک ڈاؤن اس وقت شروع ہوگیا تھا جب 21 کیسز کے بعد اسکول بند کئے گئے تھے۔ لاک ڈاؤن کی آخری حد کرفیو ہے ، بدقسمتی ہے فیصلے ایلیٹ کلاس کو دیکھ کر کئے جاتے ہیں۔

وزیراعظم نے ٹرانسپورٹ بند کی مخالفت کرتے ہوئے ایک ہفتے بعد صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کا مشورہ دیا اور بتایا کہ صوبے خود مختار ہیں، عمران خان نے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ مزدوروں کیلئے 2 سو ارب روپے رکھے ہیں، صوبائی حکومتوں سے بات کی جارہی ہے تاکہ بے روزگار افراد کیلئے اقدامات کئے جاسکیں، اسمال اور میڈیم انڈسٹری کیلئے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔  3 ہزار روپے غریب خاندانوں کو دیئے جائیں گے۔  اس کام کیلئے 150 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو 4 ماہ میں خرچ ہوں گے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کیلئے 50 ارب روپے دیئے گئے ہیں۔ آٹا ، دال ، چاول ، چنے اور کھانے پینے کی اشیا پر ٹیکسز ختم یا کم کردیئے گئے ہیں ، بجلی اور گیس کے بل 3 ماہ کی اقساط میں ادا کرنے کی سہولت دی گئی ہے، گندم خریداری کیلئے 280 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور این ڈی ایم اے کو 25ارب روپے دیئے جائیں گے۔

ملک بھر میں لاک ڈاون اور ٹرانسپورت بند ہے ، ایسے میں وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 15 روپے لیٹر کم کرنے کا اعلان کیا، صحافیوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اعبتار سے یہ کم ہے۔

وزیراعظم کے منہ پر یہ تک کہہ دیا گیا کہ کورونا سے پیدا بحران کی صورتحال میں صوبے جارحانہ اقدامات کررہے ہیں جبکہ آپ قائدانہ کردار ادا کرتے نظر نہیں آرہے۔ وزیراعظم نے اقتصادی سوالات کے باونسر مشیر حفیظ شیخ کی طرف موڑنے کی کوشش کی جبکہ صحت سے متعلق یارکر ڈاکٹر ظفر مرزا  سے سنبھالنے کی درخواست کی۔ ہر سخت سوال پر مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان صحافیوں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتی رہیں۔ اس صورت حال میں صحافیوں نے یہ کہہ کر تینوں کلیاں اکھاڑ دیں کہ وہ صرف منتخب نمائندے سے سوال پوچھنے آئے ہیں نہ کہ ایسے افراد سے جو آئی ایم ایف سے اٹھ کر آگئے ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں جن کا پتا ہی نہیں کہ آج وہ آپ کے ساتھ ہیں کل کہاں ہوں گی۔ نوبت یہ آئی کہ وزیراعظم کو ایک بار یہ کہنا پڑگیا کہ پریس کانفرنس ختم کردیتے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو