وزیراعظم کتنی اموات کافی ہوں گی؟ بلاول

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان کو کورونا سے متعلق قومی حکمت عملی اپنانے میں ناکام قرار دے دیا۔ انھوں نے وفاقی حکومت پر صوبائی حکومتوں کی کوششیں ثبوتاژ کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔  

کراچی میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے وزیراعظم پر شدید تنقید کی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے عمران خان سے کہا کہ کنٹینر سے اترو ، اپنا کام کرو اور وزیراعظم بنو۔ اگر کچھ نہیں کرسکتے تو کم سے کم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل ہی کردی جائے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کام نہیں کرنا تو استعفی دے کر گھر چلے جائیں، اگر وزیراعظم میئر اسلام آباد بنیں گے تو ان سے اسلام آباد ہی کی بات ہوگی۔

انھوں نے وزیراعظم سے کہا کہ کون سی ایلیٹ کلاس نے لاک ڈاؤن کیا، لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان تو وفاقی وزیر نے کیا تھا، وفاق کے خلاف سندھ نے کوئی سازش نہیں کی۔ اگر پی ٹی آئی کو خطرہ ہے تو پی ٹی آئی ہی سے ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر لاک ڈاؤن ختم کیا تو اسپتالوں پر دباؤ بڑھ جائے گا، یہ اہم مہینہ ہے اور وبا کا عروج ہے۔ دفاتر کھولنے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ سندھ حکومت کرے گی البتہ وہ چاہتے ہیں ڈاکٹروں کی تجاویز کے مطابق فیصلے کئے جائیں۔

بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت پر کورونا سے لڑتی صوبائی حکومتوں کی کوششیں ثبوتاژ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ عمران خان قومی حکمت عملی اپنانے میں ناکام رہے ، ان کے بیانات کی وجہ سے خدا نخواستہ کراچی کی صورتحال نیویارک جیسی نہ ہوجائے، وبا لیاری سے لانڈھی تک پھیل رہی ہے اور یہاں خطرات ہیں۔ وفاق صوبائی حکومت کی ٹیسٹنگ صلاحیت بڑھانے کیلئے کچھ نہیں کر رہا، سندھ حکومت نے 90 فیصد کام خود کیا ہے۔ معیشت کیلئے اب تک ایک روپیہ بھی نہیں ملا ، وفاق نے نادرا کا ڈیٹا بھی نہیں دیا ، اس کے باوجود سندھ حکومت نے لوگوں کی مدد کی اور دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ راشن تقسیم کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں کورونا سے اموات کی شرح کم ہے ، عمران خان بتائیں ان کیلئے کورونا سے کتنی اموات کافی ہوں گی اور کتنے فیصد پر ان کی تسلی ہوگی۔

اٹھارویں ترمیم سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ جمہوری انداز سے فیصلے نہیں چاہتے وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے لیکن اس وقت اٹھارویں ترمیم کو کوئی خطرہ نہیں، یہ شوشہ اس وجہ سے چھوڑا گیا تاکہ کورونا سے توجہ ہٹ جائے۔

ٹرینڈنگ

مینو